سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 82
سیرت المہدی 82 88 حصہ چہارم مجھے تو اچھی طرح عربی بھی نہیں آتی۔1104 بسم الله الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ بعض دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کوتشریف لے جاتے تو کنوئیں سے پانی نکلوا کر ڈول کو منہ لگا کر ہی پانی پی لیتے۔اور لوگ منتظر رہتے کہ آپ کا چھوڑا ہوا پانی پیئیں۔مگر حضور عموماًوہ ڈول مجھے عطا فرماتے۔بعض دفعہ کسی اور کو بھی دے دیتے۔1105 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک محمد سعید صاحب عرب تھے اور وہ ڈاڑھی منڈوایا کرتے تھے۔جب وہ قادیان میں زیادہ عرصہ رہے تو لوگوں نے انہیں داڑھی رکھنے کے لئے مجبور کیا۔آخر انہوں نے داڑھی رکھ لی۔ایک دفعہ میرے سامنے عرب صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی کہ حضور میری داڑھی دیکھیں ٹھیک ہے۔آپ نے فرمایا اچھی ہے اور پہلے کیسی تھی۔گویا آپ کو یہ خیال ہی نہ تھا کہ پہلے یہ داڑھی منڈایا کرتے تھے۔1106 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دن محمد سعید صاحب عرب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اپنی داڑھی کے متعلق پوچھا۔اُس وقت ایک شخص نے عرض کی کہ حضور داڑھی کتنی لمبی رکھنی چاہئے۔آپ نے فرمایا کہ میں داڑھیوں کی اصلاح کے لئے نہیں آیا۔اس پر سب چپ ہو گئے۔1107 بسم الله الرحمن الرحیم۔شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا۔غالبا ۱۸۸۸ء کے آخر یا ۱۸۸۹ء کے شروع میں خاکسار ریاست پٹیالہ کی طرف سے ریلوے میل سروس میں ریکارڈ کلرک ملازم ہو کر راجپورہ میں مقیم تھا کہ ایک روز شام کی گاڑی سے حاجی عبدالرحیم صاحب انبالوی پنجاب کی طرف لے جانے والی گاڑی میں سوار ہوئے۔خاکسار پلیٹ فارم پر پھرتا ہوا ان سے ملا تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آج کل لدھیانہ میں تشریف رکھتے ہیں۔تو بھی چل، قریب ہیں، زیارت کا موقعہ ہے۔میں نے بلا اجازت ہیڈ کوارٹر چھوڑنے کی معذوری ظاہر کی۔اور وعدہ کیا کہ اگر