سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 80 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 80

سیرت المہدی 80 60 حصہ چہارم صرف دو روز باقی رہ گئے ہیں۔کل واپسی کا ارادہ ہے۔حضور نے فرمایا۔دوروز پیشتر کیوں جاتے ہو۔میں نے عرض کی کہ ایک روز تو راستہ میں صرف ہو جاتا ہے۔اور ایک دن میں امرتسر میں اس لئے ٹھہرا کرتا ہوں کہ گھر کی فرمائشات اور بچوں کے لئے پھل وغیرہ خرید سکوں۔اس پر حضور نے فرمایا۔کہ وہ دوروز جو رخصت کے باقی ہیں وہ بھی یہیں ٹھہر کر ختم کرو۔پٹیالہ تک راستہ کے لئے رات کافی ہے۔پٹیالہ بڑا شہر ہے وہاں سب اشیاء مل سکتی ہیں۔وہیں سے خرید کر بچوں کو دے دینے میں کیا حرج ہے۔پھر خلیفہ رجب دین صاحب کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا۔کہ میں اس نوجوان (یعنی خاکسار کرم الہی ) کو دیکھ کر بہت تعجب کرتا ہوں۔یہ عمر کھیل تماشہ کی ہوتی ہے۔اس کو جب وقت ملتا ہے یہ لا ہور اور امرتسر جیسے شہروں کی تفریحات اور تھیڑوں کو چھوڑتا ہوا یہاں آجاتا ہے۔آخر اس نے کچھ تو دیکھا ہے۔پھر خاکسار کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا۔کہ کبھی تین ماہ کی رخصت لے کر آنا چاہئے۔خاکسار نے عرض کی کہ سال میں ایک ماہ کا حق رخصت ہے۔تین ماہ کی رخصت تب مل سکتی ہے کہ جب تین سال تک کوئی رخصت نہ لوں۔خاکسار اس ایک ماہ کی رخصت کو دو دفعہ کر کے پندرہ پندرہ روز کے لئے اور کرسمس کی تعطیلات میں تین دفعہ حاضر ہو جاتا ہے۔حضور نے فرمایا زیادہ دفعہ آؤ۔اور زیادہ وقت کے لئے آؤ۔آپ لوگ دفتروں کے ملازم ہیں۔آپ کو معلوم ہوگا کہ احکام ہیڈ کوارٹرز میں آتے ہیں۔بہت کم اُن میں سے مفصلات تک پہنچتے ہیں اور وہ بھی دیر کے بعد۔یہ خدا کی شان اور اس کی مرضی ہے کہ اس روڑیوں والے گاؤں کو خدا نے اپنا ہیڈ کوارٹر چن لیا ہے۔(اس وقت وہاں تک روڑیوں یعنی کوڑا کرکٹ کے ڈھیر تھے جہاں آج احمد یہ بازار ہے ) پھر خلیفہ صاحب سے مخاطب ہوکر فرمایا۔کہ بعض لوگوں کو یہ بھی وسوسہ ہوتا ہے کہ مل لیا ہے۔اب زیادہ دیر ٹھہر کرلنگر خانہ پر کیوں بار ہوں۔یہ بھی صحیح نہیں بلکہ اس کے برعکس مہمانوں کے آنے اور قیام سے ہم کو راحت ہوتی ہے۔تکلیف کی نوبت تو تب آئے کہ جب لوگوں کے دلوں میں تحریک کرنے اور ان کی رہائش اور خورونوش کا انتظام دوجدا گانہ ہاتھوں میں ہو۔لیکن یہاں تو دونوں امور ایک ہی خدا کے ہاتھ میں ہیں۔ایسا نہیں ہوتا کہ خدا آدمیوں کو بھیجے اور اُن کے لئے سامان آسائش مہیا نہ کرے۔پس یہ خیال دل سے نکال دینا چاہئے۔چنانچہ اس دفعہ دوروز بقیہ رخصت کے دن بھی خاکسار نے دارالامان میں ہی گزارے۔