سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 66 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 66

سیرت المہدی 66 حصہ چہارم سے لپٹ گیا۔آپ کی آنکھ کھل گئی تو مسکرانے لگے۔میں نے کہا۔حضور اس موسم میں پیشانی پر پسینہ دیکھ کر میں نے خیال کیا کہ اس وقت آپ خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہو رہے ہیں۔آپ نے فرمایا! مجھے اس وقت ایک ہیبت ناک الہام ہوا۔اور یہ عادت ہے کہ جب ایسا الہام ہو تو پسینہ آ جاتا ہے۔وہ الہام بھی حضور نے مجھے بتایا تھا مگر اب مجھے وہ یاد نہیں رہا۔1085 بسم اللہ الرحمن الرحیم مینشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا۔کہ لدھیانہ کا واقعہ ہے کہ ایک شخص جو بظاہر فائر العقل معلوم ہوتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس خاکی وردی اور بوٹ پہنے ہوئے آیا اور سر پر کلاہ اور پگڑی تھی۔وہ آکر حضرت صاحب کے سامنے جھک گیا۔سر زمین سے لگا دیا۔حضور نے اس کی کمر پر تین تھا پیاں ماریں اور وہ اٹھ کر ہنستا ہوا چلا گیا۔مولوی عبدالکریم صاحب نے دریافت بھی کیا مگر حضور مسکراتے رہے اور کچھ نہ بتایا۔1086 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دن مسجد اقصیٰ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تقریر فرمارہے تھے کہ میرے درد گردہ شروع ہو گیا۔اور باوجود بہت برداشت کرنے کی کوشش کے میں برداشت نہ کر سکا اور چلا آیا۔میں اس کو ٹھے پر جس میں پیر سراج الحق صاحب مرحوم رہتے تھے ٹھہرا ہوا تھا۔حضرت صاحب نے تقریر میں سے ہی حضرت مولوی نورالدین صاحب کو بھیجا۔انہوں نے درد گردہ معلوم کر کے دوا بھیجی مگر اس کا کچھ اثر نہ ہوا۔تکلیف بڑھتی گئی۔پھر حضور جلدی تقریر ختم کر کے میرے پاس آگئے اور مولوی عبد اللہ صاحب سنوری سے جو آپ کے ساتھ تھے فرمایا کہ آپ پرانے دوست ہیں، منشی صاحب کے پاس ہر وقت رہیں اور حضور پھر گھر سے دوا لے کر آئے اور اس طرح تین دفعہ یکے بعد دیگرے دوا بدل کر خود لائے۔تیسری دفعہ جب تشریف لائے تو فرمایا۔زینے پر چڑھنے اترنے میں دقت ہے۔آپ میرے پاس آجائیں۔آپ تشریف لے گئے اور مولوی عبداللہ صاحب سنوری مجھے سہارا دے کر حضرت صاحب کے پاس لے گئے۔راستہ میں دو دفعہ میں نے دعا مانگی۔مولوی صاحب پہچان گئے اور کہنے لگے کہ تم یہ دعا مانگتے ہو گے کہ مجھے جلدی آرام نہ ہوتا کہ دیر تک حضرت صاحب کے پاس ٹھہرا رہوں۔میں نے کہا ہاں یہی بات ہے۔جب میں آپ کے پاس پہنچا تو