سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 65 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 65

سیرت المہدی 65 59 حصہ چہارم کیا کہ چنانچہ اس وقت سے میرا تجربہ ہے کہ جب کوئی ضرورت پیش آتی ہے تو میں اس درود شریف کا ورد شروع کرتا ہوں۔چند روز میں ہی وہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔حضور نے سن کر یہ نہیں دریافت فرمایا کہ وہ کون سا درود شریف ہے بلکہ فرمایا۔کہ ہر وہ کلام جس میں سرور کائنات پر صلوۃ وسلام بھیجنا مقصود ہو۔خواہ کسی زبان میں ہو۔درود شریف ہے۔لیکن جو درود شریف نماز کے آخر میں متداول ہے وہ زیادہ صحیح روایات سے ثابت ہے۔اور درود شریف کے فضائل اور تاثیرات اس قدر ہیں کہ بیان سے باہر ہیں۔اس کا عامل نہ صرف ثواب عظیم کا مستحق ہوتا ہے بلکہ دنیا میں بھی معزز اور مؤقر ہوتا ہے۔میں خود اس کا صاحب تجربہ ہوں۔آپ اس دور د کو پڑھتے جائیں جو درویش صاحب نے بتایا ہے لیکن میں یہ بتادینا ضروری خیال کرتا ہوں کہ میں کسی ایسے درود شریف کا قائل نہیں ہوں کہ جس پر یہ بھروسہ کیا جائے کہ گو یا قضا و قدر کی کلید اب ذات باری تعالیٰ کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اس درود خواں کے قبضہ میں آ گئی ہے۔ذات باری کی صفت غنا اور قدیر کو سامنے رکھ کر جس قدر درود شریف پڑھو گے بابرکت ہوگا۔لیکن اس قادر مطلق کی بعض قضایا تو ایسی بھی ہوئی تھیں جن کے سامنے ، جس پر تم درود بھیجتے ہو، اس کو تسلیم اور رضا کے سوا چارہ نہ تھا۔اس کے بعد حضور نے یہ معلوم کر کے کہ ہم لوگ رات سے آئے ہوئے ہیں اور بخیال تکلیف و بے وقت ہونے کے حاضر خدمت نہ ہو سکے۔حضور نے افسوس کرتے ہوئے یہ الفاظ فرمائے کہ جب آپ صرف میری ملاقات کے ارادہ سے آئے تھے تو چھاؤنی پہنچ کر آپ ہمارے مہمان تھے۔آپ کے رات کو مسجد میں سونے سے اور خوردونوش میں بھی جو تکلیف ہوئی ہوگی اس کے خیال سے مجھے تکلیف ہوئی۔یہاں چار پائیاں وغیرہ سب سامان موجود رہتا ہے۔آپ کو کوئی تکلیف نہ ہوتی۔اس کے بعد حضور نے کھانا منگوا کر ہم لوگوں کے ساتھ شامل ہو کر تناول فرمایا۔بعد فراغت طعام سب اصحاب با ہر کوٹھی کے احاطہ میں درختوں کے نیچے آرام کرنے کے لئے آگئے جہاں کہ ضرورت کے موافق چار پائیاں بچھی ہوئی تھیں۔1084 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جاڑے کا موسم تھا اور مولوی عبد اللہ صاحب سنوری حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاؤں داب رہے تھے۔حضور کو غنودگی کا عالم طاری ہو گیا۔اور میں نے دیکھا کہ حضور کو پیشانی پر پسینہ آیا۔میں اس وقت آپ