سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 64
سیرت المہدی 64 حصہ چہارم ہوٹل سے چھٹی وغیرہ لینے کا انتظام کیا تاکہ حضور کے جنازہ کے ساتھ قادیان جاسکیں۔یہ انتظام کر کے ہم احد یہ بلڈنکس پہنچ گئے اور پھر حضور کے جنازہ کے ساتھ قادیان آئے۔اس موقعہ پر میں غالبا دودن قادیان ٹھہرا اور حضرت خلیفہ امسیح اول کی بیعت کرنے کے بعد واپس لاہور چلا گیا۔ان ایام کے احساسات اور قلبی کیفیات کا سپر د قلم کرنا میرے جیسے انسان کے لئے مشکل ہے۔1082 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کہ ستمبر ۱۹۰۵ء میں میں اپنے والد صاحب کے ہمراہ پہلی دفعہ قادیان آیا اور ہم اس کوٹھڑی میں ٹھہرے جو صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ( یعنی خاکسار مؤلف ) کے مکان کے جنوب مشرقی کو نہ میں بیت المال کے دفاتر کے بالمقابل ہے۔ان ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ظہر اور عصر کی نمازوں کے بعد کچھ وقت کے لئے مسجد مبارک کی چھوٹی کوٹھڑی میں جس میں حضور علیہ السلام خود نماز ادا فرمایا کرتے تھے تشریف رکھا کرتے تھے اور کچھ عرصہ سلسلہ کلام جاری رہا کرتا تھا۔میں ان مواقع پر ہمیشہ موجودرہتا تھا۔صبح آٹھ نو بجے کے قریب حضور باہر سیر کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔اکثر اوقات میں بھی دیگر احباب کے ساتھ حضور کے پیچھے پیچھے چلا جایا کرتا تھا۔1083 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جن ایام میں حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم انبالہ چھاؤنی میں دفتر سپرنٹنڈنگ انجینئر انہار میں ڈرافٹسمین تھے۔ہم کو مولوی عبد اللہ صاحب سنوری کی زبانی معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آج کل انبالہ چھاؤنی میں اسٹیشن کے قریب والے بنگلہ میں تشریف فرما ہیں۔ہم دس اشخاص کی تعداد میں پٹیالہ سے روانہ ہوئے۔چھاؤنی پہنچ کر سرائے متصل اسٹیشن کی مسجد میں شب باش ہوئے۔صبح آٹھ بجے کے قریب قیام گاہ حضور پر پہنچے۔اطلاع ہونے پر حضور نے شرف باریابی بخشا۔ہمارے ہمراہیوں میں سے ایک شخص نے حضور سے دریافت کیا کہ مجھ کو ایک درویش نے ایک درود شریف بتایا ہوا ہے۔اس کی تاثیر یہ بتائی تھی کہ کیسی ہی کوئی مشکل در پیش ہو یا کوئی بیماری ہو یا کوئی ملازمت وغیرہ کی خواہش ہو۔عشاء کی نماز کے بعد اس درود شریف کا ورد کرنے سے یہ مشکل اور تکلیف دور اور مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔اس شخص نے یہ بھی بیان