سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 63
سیرت المہدی 63 حصہ چہارم 1079 بسم اللہ الرحمن الرحیم مینشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ چند ولعل مجسٹریٹ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامِ إِنِّي مُهِينٌ مَنْ اَرَادَ اهَانَتَک “ کے متعلق سوال کیا کہ یہ خدا نے آپ کو بتایا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور اس کا مجھ سے وعدہ ہے۔وہ کہنے لگا جو آپ کی ہتک کرے وہ ذلیل و خوار ہو گا ؟ آپ نے فرمایا۔بےشک۔اس نے کہا ”اگر میں کروں؟ آپ نے فرمایا ”چاہے کوئی کرے تو اس نے دو تین دفعہ کہا ”اگر میں کروں؟“ آپ یہی فرماتے رہے چاہے کوئی کرے پھر وہ خاموش ہو گیا۔1080 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک مقدمہ کے تعلق سے میں گورداسپور میں ہی رہ گیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام پہنچا کہ واپسی پر مل کر جائیں۔چنانچہ میں اور شیخ نیاز احمد صاحب اور مفتی فضل الرحمن صاحب یکے میں قادیان کو روانہ ہوئے۔بارش سخت تھی۔اس لئے لیکے کو واپس کرنا پڑا اور ہم بھیگتے ہوئے رات کے دو بجے کے قریب قادیان پہنچے۔حضور اُسی وقت باہر تشریف لے آئے۔ہمیں چائے پلوائی اور بیٹھے باتیں پوچھتے رہے۔ہمارے سفر کی تمام کوفت جاتی رہی۔پھر حضور تشریف لے گئے۔1081﴾ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔چوہدری سرمحمد ظفر اللہ خان صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب ستمبر ۱۹۰۷ء میں میں والد صاحب کے ساتھ قادیان آیا تو حضرت خلیفہ امسیح اول کے ارشاد کی تعمیل میں میں نے خودہی ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور یہ ۶ ارستمبر ۱۹۰۷ ء کا دن تھا۔اسی سال میں نے انٹرنس کا امتحان پاس کیا تھا اور گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہو چکا تھا۔چنانچہ مئی ۱۹۰۸ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام آخری دفعہ لا ہور تشریف لے گئے تو میں اُن دنوں لاہور میں ہی تھا۔اُن ایام میں بھی مجھے حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوتا تھا۔۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو دوپہر کے وقت میں اپنے کمرہ ہوسٹل میں سویا ہوا تھا کہ شیخ تیمور صاحب بڑی جلدی اور گھبراہٹ کے ساتھ تشریف لائے اور میرے پاؤں کو ہلا کر کہا کہ جلدی اٹھو اور میرے کمرہ میں آؤ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔چنانچہ میں فوراً اُٹھ کر اُن کے کمرہ میں گیا اور ہم نے کالج اور