سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 52
سیرت المہدی 529 52 حصہ چہارم اور وقت مقرر کر لیں۔1059 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جالندھر میں زیادہ عرصہ قیام جب رکھا تو دوست احباب ٹھہر کر چلے جاتے تھے۔لیکن مولوی عبداللہ صاحب سنوری اور خاکسار برابر ٹھہرے رہے۔ایک دن میں نے اور مولوی صاحب مرحوم نے ارادہ کیا کہ وہ میرے لئے اور میں اُن کے رخصت ہونے کی اجازت حاصل کریں۔صبح کو حضور سیر کے لئے تشریف لائے اور آتے ہی فرمایا۔لوجی میاں عبداللہ صاحب اور منشی صاحب ! اب تو ہم اور آپ ہی رہیں گے اور دوست تو چلے گئے۔نئے نو دن پرانے سو دن۔بس پھر ہم خاموش ہو گئے اور ٹھہرے رہے۔1060 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ابتداء میں جب میں قادیان مستقل طور پر رہنے لگا تو مرزا نظام الدین صاحب کے ہاں باہر سے برات آئی تھی۔اس کے ساتھ کنچنی بھی تھی اور ناچ وغیرہ ہوتا تھا۔میں ایسی شادی کی رسوم میں نہ خود شریک ہوتا ہوں اور نہ اپنی کوئی چیز دیتا ہوں۔مرزا نظام الدین نے مجھ سے غالباً کچھ دریاں اور چکیں مانگی تھیں۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا۔آپ نے فرمایا۔دے دو کیونکہ اس شادی سے اغلب ہے کہ دولہا کی اصلاح ہوگی۔1061 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مرزا خدا بخش صاحب کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔انہوں نے لڈو میرے ہاں بھیجے۔میں نے واپس کر دیئے کہ عقیقہ کا کھانا تو میں لے لوں گا مگر یہ میں نہیں لیتا۔تھوڑے عرصہ بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام وہ رکابی خود لئے تشریف لائے اور فرمایا کہ بات ٹھیک ہے جو تم نے کہی۔یہ بچہ کی پیدائش کے لڈو نہیں۔بلکہ اس شکریہ کے ہیں کہ ماں کی جان بچ گئی۔میں نے نہایت تکریم سے وہ رکابی لے لی۔اُس وقت میرے مکان زنانہ کے صحن میں ایک دروازہ تھا اس پر کھڑے کھڑے یہ باتیں ہوئیں۔