سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 51 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 51

سیرت المہدی 51 حصہ چہارم ذریعہ محض یہ سمجھا ہے کہ میری یہ ناچیز خدمت خدا قبول کر لے۔غرض بڑے اخلاص اور محبت سے وہ کھانا کھلاتا رہا۔کھانا کھانے کے بعد اُس نے حضرت صاحب سے عرض کی کہ کیا خدا میرے اس عمل کو قبول کرے گا، مجھے نجات دے گا؟ حضور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ذرہ نواز ہے۔تم خدا کو وحدہ لاشریک یقین کرو اور بتوں کی طرف بالکل توجہ نہ کرو اور اپنی ہدایت کے لئے خدا سے اپنی زبان میں ہی دعا مانگتے رہا کرو۔اُس نے کہا کہ میں ضرور ایسا کروں گا۔حضور بھی میرے لئے دعا مانگتے رہیں۔پھر ہم واپس جالندھر آگئے اور وہ ساہوکار دوسرے تیسرے دن آتا اور بڑے ادب کے ساتھ حضور کے سامنے بیٹھ جاتا۔1057 بسم اللہ الرحمن الرحیم مینشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی نے مجھ سیپذ ریعہ تحریر بیان کیا کہ جالندھر میں قیام کے ایام میں ایک دن ایک ضعیف العمر مسلمان غالباً وہ بیعت میں داخل تھا اور اس کا بیٹا نائب تحصیلدار تھا، اس بیٹے کو لے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔اُس نے شکایت کی کہ یہ میرا بیٹا میری یا اپنی ماں کی خبر گیری نہیں کرتا اور ہم تکلیف سے گزارا کرتے ہیں۔حضور نے مسکرا کر اُس کی طرف دیکھ کر فر مایا کہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے ويُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَّاسِيرًا (الدھر: ۹) اور اس میں کیا شک ہے کہ جب کوئی شخص اپنے ماں باپ، اولا داور بیوی کی خبر نہ لے۔تو وہ بھی اس حکم کے نیچے مساکین (ماں باپ ) یتامی ( بچے ) اسیر ( بیوی ) میں داخل ہو جاتے ہیں۔تم خدا تعالیٰ کا یہ حکم مان کر ہی آئندہ خدمت کرو۔تمہیں ثواب بھی ہوگا اور ان کی خبر گیری بھی ہو جائے گی۔اُس نے عہد کیا کہ آج سے میں اپنی کل تنخواہ ان کو بھیج دیا کروں گا۔یہ خود مجھے میرا خرچ جو چاہیں بھیج دیا کریں پھر معلوم ہوا کہ وہ ایسا ہی کرتا رہا۔1058 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ دوران قیام جالندھر میں ایک شخص جو مولوی کہلاتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بحث کرنے کی غرض سے آیا۔حضور نے فرمایا کہ آپ صبح کے وقت آجائیں۔اُس نے کہا کہ صبح کو مجھے فرصت نہیں ہوتی۔میں بھی اُس شخص کو جانتا تھا۔میں نے کہا۔یہ شخص واقعی صبح کو مشغول ہوتا ہے کیونکہ شراب نوشی کا عادی ہے۔اس پر حاضرین تو مسکرا پڑے۔لیکن حضور نے صرف اس قدر فر مایا کہ آپ اپنے شکوک رفع کرنے کے لئے کوئی