سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 53 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 53

سیرت المہدی 53 حصہ چہارم 1062 بسم الله الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جالندھر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر تقریر فرمارہے تھے۔اس وقت ایک انگریز جو بعد میں معلوم ہوا کہ سپر نٹنڈنٹ پولیس تھا ، آ گیا اور ٹوپی اتار کر سلام کیا اور حضور کی تقریر سننے کے لئے کھڑا رہا اور باوجود یکہ اس کے بیٹھنے کے لئے کرسی وغیرہ بھی منگوائی گئی مگر وہ نہ بیٹھا۔عجیب بات تھی کہ وہ تقریر سنتا ہوا۔سبحان اللہ سبحان اللہ کہتا تھا۔تھوڑا عرصہ تقریر سن کر سلام کر کے وہ چلا گیا۔اس کے بعد قریباً دوسرے تیسرے دن جب حضور سیر کو تشریف لے جاتے تو ایسا اتفاق ہوتا کہ وہ راستہ میں گھوڑے پر سوار مل جاتا اور گھوڑے کو ٹھہرا کر ٹوپی اتار کر سلام کرتا۔یہ اس کا معمول تھا۔1063 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جالندھر میں مولوی عبد الکریم صاحب نے ایک دفعہ مجھے فرمایا۔یا ظفر المظفر ( وہ دوستانہ بے تکلفی میں مجھے اس نام سے مخاطب فرمایا کرتے تھے ) ذرا جالندھر کی سیر تو کراؤ۔چنانچہ ہم چل پڑے۔راستہ میں دیکھا کہ گویا ایک برات آرہی ہے اور اس کے ساتھ دیسی اور انگریزی باجا اور طوائف وغیرہ آرہے ہیں۔اُن کے پیچھے ایک شخص گھوڑے پر سوار بٹیرے کا پنجرہ ہاتھ میں لئے آرہا تھا۔معلوم ہوا کہ یہ تمام جلوس اسی بٹیرے کے لڑائی جیتنے کی خوشی میں ہے۔میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ یہ برات ورات نہیں۔یہ تو بٹیرے کی کشتی جیتنے کی خوشی ہے۔مولوی عبد الکریم صاحب یہ دیکھ کر سڑک پر ہی سجدہ میں گر پڑے اور سخت مغموم ہوئے۔بوجہ مسلمانوں کی اس ابتر حالت کے۔اور یہی فرماتے رہے کہ اوہو! مسلمانوں کی حالت اس درجہ پر پہنچ گئی ہے۔ہم واپس آگئے۔1064 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام جالندھر میں مقیم تھے تو انہیں دنوں میر عباس علی صاحب بھی اپنے کسی مرید کے ہاں آکر جالندھر میں ٹھہرے ہوئے تھے۔حضرت صاحب نے مجھے فرمایا کہ وہ آپ کے پرانے ملنے والے ہیں اُن کو جا کر کچھ سمجھاؤ۔پیراں دتا جو کہ فاتر العقل سا شخص تھا اور حضرت صاحب کے پاس رہتا تھا۔اس نے کہا ” جور میں وی جا کے سمجھاواں حضرت صاحب نے فرمایا۔ہاں منشی صاحب کے ساتھ چلے