سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 50
سیرت المہدی 50 حصہ چہارم پڑھا تھا جس میں یہ واقعہ درج تھا اور حضور نے یہ شرط پیش کی تھی کہ اگر ہم لفافے کا مضمون بتادیں تو مسلمان ہونا ہوگا۔یہ واقعہ ابتدائی ایام کا اور بیعت اولی سے پہلے کا ہے۔1055 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میری دوسری بیوی کے انتقال پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتوسل حضرت مولا نا مولوی نورالدین صاحب راولپنڈی کے ایک تاجر صاحب کی سالی سے میرا رشتہ کرنا چاہا۔مجھے یہ رشتہ پسند نہ تھا کیونکہ مجھے اُن کے اقرباء ا چھے معلوم نہ ہوتے تھے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ رشتہ بہت پسند تھا۔بلکہ یہاں تک زور دیا، خود تو نہیں فرمایا مگر پیغامبر کی معرفت فرمایا کہ اگر یہ رشتہ میں منظور نہ کروں گا تو آپ میرے رشتہ کے متعلق کبھی دخل نہ دیں گے۔مگر اُن تاجر صاحب نے خود یہ بات اُٹھائی کہ ان کی سالی بہنویوں سے پردہ نہ کرے گی اور سخت پردہ کی پابند نہ ہوگی میرے متعلق یہ کہا کہ ) سنا جاتا ہے کہ نواب صاحب پردہ میں سختی کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام میرے پاس میرے مکان پر خود تشریف لائے اور فرمایا کہ وہ یہ کہتے ہیں۔میں نے عرض کی کہ قرآن شریف میں جو فہرست دی گئی ہے میں اس سے تجاوز نہیں چاہتا۔فرمانے لگے کہ کیا بہنوئی سے بھی پردہ ہے۔میں نے عرض کی کہ حضور مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔جہاں تک مجھے معلوم ہے۔قرآن شریف کی فہرست میں بہنوئی داخل نہیں۔آپ خاموش ہو گئے اور پھر اس رشتہ کے متعلق کچھ نہیں فرمایا۔اور وہ تاجر صاحب بھی چلے گئے۔1056 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جالندھر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تقریباً ایک ماہ قیام پذیر رہے۔بیعت اولی سے تھوڑے عرصہ بعد کا یہ ذکر ہے۔ایک شخص جو ہندو تھا اور بڑا سا ہو کا رتھاوہ جالندھر حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور عرض کی کہ میں حضور کی مع تمام رفقاء کے دعوت کرنا چاہتا ہوں۔آپ نے فور ادعوت قبول فرمالی۔اُس نے کھانے کا انتظام بہستی باباخیل میں کیا اور بہت پر تکلف کھانے پکوائے۔جالندھر سے پیدل چل کر حضور مع رفقاء گئے۔اُس ساہوکار نے اپنے ہاتھ سے سب کے آگے دستر خوان بچھایا۔اور لوٹا اور سلا بچی لے کر خود ہاتھ دھلانے لگا۔ہم میں سے کسی نے کہا کہ آپ تکلیف نہ کریں تو اُس نے کہا کہ میں نے اپنی نجات کا