سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 424 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 424

سیرت المہدی 424 تابوت کچھ دیر بعد گاڑی سے اتار کر پلیٹ فارم پر رکھ لیا گیا جس کے گرد حلقہ بگوش خدام نے محبت وعقیدت کا حلقہ بنایا اور پہرہ دیتے رہے۔خاندان نبوت کی خواتین مبارکہ معصوم بچیاں اور بچے ،شہزادے اور شہزادیاں بھی سب کے سب مردوں سے ذرا ہٹ کر اسی پلیٹ فارم کے ناہموار فرش پر جس کے کنکر پتھر کسی پہلو بھی چین نہ لینے دیتے تھے۔کچھ دیر کے لئے لیٹ گئے اور ہم غلاموں نے جہاں پہرہ اور نگرانی کی خدمات ادا کیں وہاں سامان کی درستی اور یکے گاڑیوں پر بار کرنے کا کام بھی ساتھ ہی ساتھ کر لیا اور اس طرح قریباً تین بجے ستائیس مئی کی صبح کو یہ غمزدہ قافلہ کچھ آگے پیچھے ہو کر خدا کے برگزیدہ نبی سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تابوت کے ہمرکاب پورے ایک ماہ کی جدائی اور داغ ہجرت کے صدمات لئے قادیان کو روانہ ہوا۔ستائیس اپریل ۱۹۰۸ء کو قادیان سے رخصت ہو کر پھر ستائیس مئی ۱۹۰۸ء کی صبح ہی کو قادیان پہنچا اور اس طرح خدا کے مونہہ کی وہ بات کہ ستائیس کو ( ہمارے متعلق ایک واقعہ۔اَللهُ خَيْرٌ وابقی پوری ہو کر رہی۔66 جسد مبارک کو تابوت سے نکال کر چار پائی پر رکھا گیا اور اس کے ساتھ لمبے لمبے بانس باندھ کر اٹھانے والوں کے لئے زیادہ گنجائش نکال لی گئی اور اس طرح حضور کا جنازہ اپنے غلاموں کے کندھوں ہی کندھوں پر بآسانی و جلد تر دارالامان پہنچ گیا۔بٹالہ سے روانگی کے وقت بھی تقسیم عمل کر کے احباب کی ڈیوٹیاں مختلف شعبہ جات میں تقسیم کر دی گئی تھیں۔قادیان اور مضافات سے آنے والے خدام اور بعض لا ہور، امرتسر و بٹالہ کے دوست اور مہمان حضرت اقدس کے جنازہ کے ہمرکاب تھے۔پیدل بھی اور سوار بھی۔قادیان کے بعض دوست بٹالہ اور دیوانی وال کے تکیہ کے درمیان آن ملے اور پھر یہ سلسلہ برابر قادیان تک جاری رہا۔پیشوائی کو آنے والے آ آ کر شامل ہوتے گئے اور اس طرح جہاں ہجوم بڑھتا گیا، رفتار ہلکی پڑتی گئی۔مولوی محمد علی صاحب ایم اے بھی معہ چند اور دوستوں کے سنا تھا کہ نہر اور سوئے کے درمیان بے اختیار دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے ملے تھے۔بعض دوستوں کی ڈیوٹی سامان کے گڑوں کے ساتھ لگائی گئی جو سامان کو لے کر قادیان کو روانہ ہوئے۔میری ڈیوٹی سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ