سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 423 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 423

سیرت المہدی 423 کی نعش مبارک کو شٹیشن پر لے جانے کی تیاری ہوئی۔نماز ظہر وعصر دونوں جمع کی جا چکی تھیں۔اس موقعہ پر پھر مخالف لوگ کثرت سے جمع ہو گئے اور سب وشتم کرنے لگے جس کی وجہ سے جنازہ لے کر نکلنا سخت مشکل تھا۔کیونکہ مشتعل ومفسد ہجوم سے یہ خطرہ پیدا ہو چکا تھا کہ مبادا جنازہ پر حملہ کر کے بے حرمتی کا ارتکاب کریں اور یہ خطرہ اتنا بڑھا ہوا تھا کہ مجبوراً پولیس کی مدد حاصل کرنا پڑی جس کے نتیجہ میں آخر ایک انگریز پولیس افسر معہ خاصی تعداد کنسٹیبلان نے آ کر پھر ان لوگوں کو منتشر کیا اور ساتھ ہوکر جنازہ سٹیشن پر پہنچایا جہاں ایک متعصب ہند و با بوگیٹ کیپر کی شرارت کی وجہ سے جنازہ تھوڑی دیر کار ہا مگر ایک کالے عیسائی نے آکر اس با بوکوڈانٹ ڈپٹ کی اور جنازہ کو احترام کے ساتھ اندر لے جانے میں مدد کی۔اس طرح سٹیشن پر تھوڑی دیر جنازہ اقدس کے رکے رہنے کی وجہ سے بھی بہتوں کا بھلا ہو گیا اور کئی لوگ زیارت سے مشرف ہوئے جن میں احمدیوں کے علاوہ ہند و شرفاء بھی تھے اور غیر احمدی بھی۔جنازہ تابوت میں رکھ کر مخصوص گاڑی میں رکھا گیا جس کے ساتھ چند دوست سوار تھے مگر افسوس کہ ان کے نام نامی مجھے یاد نہیں۔باقی خاندان نبوت کے اراکین اور خدام و مہمان مختلف گاڑیوں میں سوار تھے۔گاڑی لاہور سے چھ بجے شام کے قریب چلی امرتسر کے بعض احمدی دوست بھی امرتسر سے ہمرکاب ہو گئے اور امرتسر سے چل کر دس بجے کے قریب گاڑی بٹالہ ٹیشن پر پہنچی جہاں گاڑی کے پہنچنے سے قبل بہت سے دوست بٹالہ، قادیان اور مضافات کے موجود تھے۔لاہور سے بٹالہ تک احمدی احباب میں پیش آمدہ حالات ہی کا تذکرہ ہوتا چلا آیا الگ الگ بھی اور مل مل کر بھی۔دوستوں نے جماعت کے مستقبل کے متعلق ذکر اذکار جاری رکھے حتی کہ خلافت کے انتخاب کا معاملہ بھی ایک طرح سے گاڑی ہی میں حل ہو گیا تھا اور جہاں تک میری یادداشت کام کرتی ہے مجھے یاد نہیں کہ اس بارہ میں موجود احباب میں کوئی اختلاف ہوا ہو۔سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جسد اطہر ایک لکڑی کے تابوت میں تھا جس کے اندر کافی تعداد برف کی بھری تھی اور وہ پگھل پگھل کر پانی کے قطروں کی شکل میں تابوت میں سے گرتی تھی سید احمد نور صاحب کا بلی جو قادیان سے بٹالہ پہنچے تھے، وفور محبت میں بے تاب گاڑی کے اندرہی تابوت سے جا لیٹے اور یہاں تک بڑھے کہ تابوت سے گرنے والے قطرات ہاتھ میں لے لے کر پیتے رہے۔