سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 384 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 384

سیرت المہدی 384 ایک خادمہ نے مجھے نہایت ہی خوشی و محبت اور اخلاص سے یہ مژدہ سنایا کہ آج حضرت صاحب تمہارا ذکر گھر میں اماں جان سے کر رہے تھے۔اور فرماتے تھے کہ یہ لڑکا اخلاص و محبت میں کتنی ترقی کر رہا ہے۔ہمارے تنخواہ دار ملازم بھی اتنی خدمت نہیں کر سکتے جتنی یہ جوش عقیدت و محبت میں کرتا ہے اور اس نے تو رات دن ایک کر کے دکھا دیا وغیرہ۔وہ الفاظ تو پنجابی میں تھے جن کا مفہوم میں نے اپنے لفظوں میں لکھا ہے۔اس خادمہ کا نام مجھے اب یاد نہیں کہ کون صاحبہ تھیں۔مگر یہ ایک واقعہ ہے جس کو میں نے اظہار تشکر وامتنان کے طور پر حضرت کی ذرہ نوازی۔مروت و احسان کے بیان کی غرض سے لکھا ہے ورنہ یہ اور ایسے ہی دوسرے واقعات کے ذکر سے میں بے انتہا شرم محسوس کرتا اور لکھتے وقت پسینہ پسینہ ہو ہو جاتا ہوں کیونکہ کیا پڑی اور کیا پڑی کا شور با میں کیا اور میری بساط خدمات کیا۔ذرہ نوازی اور لطف تھا۔ور نہ درگہ میں اس کی کچھ کم نہ تھے خدمت گذار (۴) میرے آقا کی غریب نوازی اور غلام پروری کا ایک اور بھی تذکرہ اس جگہ اسی سفر کا قابل بیان ہے وہ یہ کہ سیدنا امام ہمام علیہ الصلوۃ والسلام قیام لاہور کے ایام میں سیر کے لئے تشریف لے جانے سے قبل مجھے غلام کو یا دفرماتے اور جب میں اطلاع کرتا ،تشریف لاتے تھے۔یہی حضور کا معمول تھا اور میں بھی نہایت پابندی اور تعہد سے ان اوقات کا انتظام اور انتظار کیا کرتا تھا۔رتھ کے پیچھے میرے واسطے حضور نے حکم دے کر ایک سیٹ بنوا دی تھی تو فٹن کی سواری میں پیچھے کی طرف کا پائیدان میرا مخصوص مقام تھا جہاں ابتداء میں پیچھے کو منہ کر کے الٹا کھڑا ہوا کرتا تھا۔ایسا کہ میری پیٹھ حضرت اور بیگمات کی طرف ہوا کرتی تھی۔اس خیال سے کہ بیگمات کو تکلیف نہ ہو۔کیونکہ عموماً سیدۃ النساء اور کوئی اور خواتین مبارکہ بھی حضرت کے ساتھ کو چوان کی طرف والی نشست پر تشریف فرما ہوتیں تو ان کی تکلیف یا پردہ کا خیال میرے الٹا کھڑے ہونے کا موجب و محرک ہوا کرتا تھا۔مگر ایک روز کہیں حضور کا خیال میری اس حرکت کی طرف مبذول ہو گیا