سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 383 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 383

سیرت المہدی 383 دوسرے پر رشک بھی کیا کرتے تھے۔اور بارہا خدا کے نبی ورسول کے پس خوردہ کو ذرہ ذرہ اور ریزہ ریزہ کر کے بھی بانٹ کھایا کرتے تھے اور گا ہے حضور پر نور خود بھی لطف فرماتے۔اپنے دست مبارک سے اپنے کھانے میں سے کبھی کسی کو کبھی کسی کو کچھ عطا فر ما دیا کرتے تھے۔اور ایک زمانہ میں جبکہ رات کے وقت ہم لوگ حضرت کے مکانات کا پہرہ دیا کرتے تھے۔حضور اکثر ہماری خبر گیری فرماتے اور کبھی کبھی کچھ نہ کچھ کھانے کو عطا فرما دیا کرتے تھے۔جسے ہم لوگ شوق سے لیتے ، محبت سے کھاتے اور اپنی خوش بختی پر شکرانے بجالایا کرتے تھے۔مگر آج جو کچھ مجھ پر گزرا میرے لئے بہت ہی گراں اور بھاری تھا۔اور اگر مجھے حضور کی موجودگی کا علم نہ ہو جاتا تو شائد میں حضرت اماں جان سے تو چپ سادھ کر یا کھسک کر شرمسار ہونے سے بچ ہی جاتا۔چند منٹ بعد حضور کے سامنے کا بچا سارا کھانا ایک پتنوس میں لگا لگایا میرے لئے آ گیا۔یہ وہ سعادت اور شرف ہے کہ جس کے لئے ہر موئے بدن اگر ایک نہیں ہزار زبان بھی بن کر شکر نعمت میں قرنوں قرن لگی رہے تو حق یہ ہے کہ حق نعمت ادا نہ ہو۔مادہ پرست دنیا کا بندہ اگر ان باتوں پر مضحکہ اڑائے تو اس کی تیرہ بختی ہے کیونکہ اس کو وہ آنکھ نہیں ملی جو ان روحانی برکات کو دیکھ سکے۔اس کو وہ حواس نصیب نہیں کہ ان حقائق سے آشنا ہو۔ورنہ جاننے والے جانتے اور سمجھنے والے سمجھتے ہیں کہ یہ ایسی سعادت وعزت اور فضل و کرم ہیں کہ وقت آتا ہے جب ہفت اقلیم کی شاہی پر بھی ان کو ترجیح دی جائے گی۔ایں سعادت بزور بازو نیست تانه بخشد خدائے بخشنده کیا چیز تھا ہریش چندر؟ ایک اکھڑ اور متعصب بت پرست ہندو گھرانے میں پیدا ہونے والا کروڑوں بتوں اور دیوی دیوتاؤں کے پجاری ماں باپ کی اولا د اور کہاں خداوند خدا کا یہ پیارا نبی ورسول وجيــة فــي حَضْرَتِہ کے معزز خطاب سے ممتاز ! یہ فضل یہ کرم یہ عطاء وسخا خدائے واحد و یگانہ کی خاص الخاص رحمتوں کا نتیجہ اور فضل و احسان کی دین ہے۔لَا يُسْئَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْتَلُونَ - فَالْحَمْدُ لِلَّهِ - اَلْحَمْدُ لِلَّهِ ثُمَّ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ - جن ایام میں سیدنا حضرت اقدس ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان میں سکونت پذیر تھے