سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 385 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 385

سیرت المہدی 385 تو حکم دیا کہ میاں عبدالرحمن !یوں تکلف کر کے الٹا کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں۔سفروں میں نہ اتناسخت پردہ کرنے کا حکم ہے اور نہ ہی اس تکلف کی ضرورت - الدِّينُ يُسر۔اور جس طرح عورتوں کو پردہ کا حکم ہے اسی طرح مردوں کو بھی غض بصر کر کے پردہ کی تاکید ہے آپ بے تکلف سیدھے کھڑے ہوا کریں۔چنانچہ اس کے بعد پھر میں ہمیشہ سیدھا کھڑا ہوا کرتا تھا بر عائت پر دہ۔بعض بیگمات کی گودی میں بچے ہوا کرتے تھے۔گاڑی سے اترتے وقت ان کے اٹھانے میں بھی میں بہت حد تک تکلف کیا کرتا تھا مگر اس سے بھی حضور نے روک دیا اور میں بچوں کو محتاط طریق سے بیگمات کی گودیوں میں سے بسہولت لے دے لیا کرتا تھا۔ایک روز کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ ادھر حضور کے سیر کو تشریف لے جانے کا وقت تھا ، گاڑی آچکی تھی اور میں اطلاع کر چکا تھا۔ادھر حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف سے ایک خادمہ نے پیغام دیا کہ بھائی جی سے کہو ہمیں دیسی پان لا دیں۔میں نے حضرت کی تشریف آوری کے خیال سے عذر کیا تو دوبارہ پھر سه باره تا کیدی حکم پہنچا کہ نہیں آپ ہی لاؤ اور جلدی آؤ۔مجبور ہوکر سر تو ڑ بھا گا۔لوہاری دروازہ کے باہر انارکلی میں ایک دکان پر اچھے دیسی پان ملا کرتے تھے، وہاں سے پان لے کر واپس پہنچا تو موجود دوستوں نے بتایا کہ حضرت اقدس تشریف لائے ،تمہارے متعلق معلوم کیا ، غیر حاضر پا کر واپس اندر تشریف لے گئے۔“ میں پہلے ہی دوڑ بھاگ کی وجہ سے پسینہ پسینہ ہورہا تھا۔یہ واقعہ سن کر کانپ اٹھا اور ڈرتے ڈرتے دستک دے کر جہاں خادمہ کو پان دیئے وہاں حضرت کے حضور اپنی حاضری کی اطلاع بھی بھیج دی۔حضور پر نور فوراً تشریف لے آئے اور فرمایا ”میاں عبد الرحمن آپ کہاں چلے گئے تھے۔ہم نے جو کہہ رکھا ہے کہ سیر کے وقت موجودرہا کرو اور کہیں نہ جایا کرو“ حضور ! اماں جان نے حکم بھیجا تھا۔میں نے عذر بھی کیا مگر اماں جان نے قبول نہ فرمایا اور تاکیدی حکم دے کر کہلا بھیجا کہ تم ہی ہمارا یہ کام کرو۔حضور! میں اماں جان کا حکم ٹال نہ سکا اور چلا گیا۔بس حضور پر نورفٹن میں سوار ہوئے اور سیر کے واسطے تشریف لے گئے اور حضور کا یہ ادنی ترین غلام بھی حسب معمول حضور کے ہمرکاب آخری دن کی سیر تک ہمرکابی کی عزت پاتا رہا۔فٹن یعنی گھوڑا گاڑی جو حضور کی سیر کے واسطے منگوائی