سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 382 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 382

سیرت المہدی 382 ایک روز نامعلوم میرے دل میں کیا آئی شام کی نماز کے بعد جب کہ مجھے خیال تھا کہ سیدنا حضرت اقدس کھانا تناول فرما چکے ہوں گے۔میں اوپر سے نیچے اتر اس دروازہ پر پہنچا جو خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان کے نچلے شمالی حصہ سے غربی جانب کو چہ میں کھلتا تھا جہاں حضور معہ اہل بیت رہتے تھے اور دستک دی۔میرے کھٹکھٹانے پر سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بلند آواز سے دریافت فرمایا۔کون ہے؟ حضور کا غلام عبدالرحمن قادیانی۔میں نے بالکل دھیمی سی آواز میں عرض کیا اور مارے شرم کے پانی پانی ہو گیا۔کیونکہ ساتھ ہی میرے کان میں سیدنا حضرت اقدس کی آواز پڑ گئی۔میں دروازہ پر اس خیال سے گیا تھا کہ دستک دوں گا تو کوئی خادمہ یا بچہ آوے گا۔میں آہستگی سے اپنا مقصد کہ دوں گا۔مگر یہاں معاملہ ہی کچھ اور بن گیا۔نہ صرف حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا بلکہ سیدنا حضرت اقدس مسیح پاک بھی تشریف فرما ہیں۔اب ہوگا کیا ؟ نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن کیا کہتے ہو بھائی جی؟ سیدۃ النساء کا فرمان تھا اور اب چپ رہنا یا لوٹ جانا بھی سوء ادبی میں داخل تھا۔جواب عرض کئے بغیر چارہ نہ تھا۔نہایت درجہ شرم سے اور بالکل دھیمی سی آواز میں عرض کیا۔حضور کچھ تبرک چاہتا ہوں۔دو 66 تمہیں تبرک کی کیا ضرورت تم تو خود ہی تبرک بن گئے۔“ میری درخواست کا جواب دیا سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ، نہ تنہائی میں بلکہ نبی اللہ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی موجودگی میں۔حضور ابھی کھانا تناول فرمارہے تھے اور میں حضور کے بولنے کی آواز اپنے کانوں سے سن رہا تھا۔ساتھ ہی ارشاد ہوا ” ذرا ٹھہرو “ میری اس وقت جو حالت تھی اس کا اندازہ میرے خدا اور خود میری اپنی ذات کے سوا کوئی کر ہی کیوں کرسکتا ہے۔اگر چہ ہم لوگ اس زمانہ میں کوشش کر کے بھی خدا کے برگزیدہ جَرِيُّ اللَّهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ کے تبرکات حاصل کیا کرتے تھے۔اور اس کے لئے ہماری جد و جہد اس درجہ بڑھی ہوئی ہوا کرتی تھی کہ ایک