سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 334
سیرت المہدی 334 مكتوب مکرم ملک حسن محمد احمدی قادیانی بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ بخدمت جناب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ایک روایت الفضل مجریہ ۲۰ را خاء ۳۲۸ اھش میں شائع ہوئی ہے جس کے راوی مولوی محمد احمد صاحب وکیل کپور تھلوی ہیں اور انہوں نے اپنے والد بزرگوار حضرت منشی ظفر احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنی ہے۔جو خاکسار کی نظر سے بھی گذری۔اس میں ایک فقرہ ایسا ہے جس نے مجھے بھی ایک شہادت کے بیان کرنے پر مجبور کیا۔وہ فقرہ یہ ہے کہ ”مرزا سلطان احمد صاحب نے ہماری تائی مرحومہ (تائی آئی الہام سید نامسیح موعود ) کے پیچھے لگ کر ساری عمر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے علیحدگی اور ایک گونہ مخالفت میں گذاری۔میری شہادت خاکسار سید نا خلیفتہ ایسی اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مبارک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب سیدنا مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حیات تھے اور حضرت خلیفہ اول حکیم الامت کے مبارک لقب سے یاد ہوتے تھے۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا ” حضرت مرزا سلطان احمد صاحب میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے کہا کہ حضرت مسیح موعود سے میری صلح کروادیں اور مجھے حضرت کی خدمت میں اپنے ہمراہ لے چلیں تا میں حضرت سے معافی مانگ لوں۔“ مولوی صاحب نے فرمایا ! میں نے حضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر اس معاملہ کو پیش کیا کہ مرزا سلطان احمد صاحب حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر معافی مانگنا چاہتے ہیں۔حضور کا کیا ارشاد ہے۔میں ان کو اپنے ہمراہ لے آؤں اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ” جب تک سلطان احمد اپنے چال چلن درست نہیں کرتا اس وقت تک میرے پاس نہ آوے۔“ یہ شہادت حضرت حکیم الامت خلیفتہ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی ہے جس کو مولوی صاحب نے اپنی