سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 335 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 335

سیرت المہدی 335 مجلس میں بیان فرمایا جس کا میں شاہد ہوں۔دوسری شہادت خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کی بیگم صاحبہ کی ہے جو میری بیوی کے رو بر وموصوفہ نے بیان فرمائی اس کے ذریعہ مجھ تک پہنچی۔میری بیوی کے رو بر ومحترمه خورشید بیگم صاحبہ حرم مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم نے بیان کیا کہ مرزا صاحب یعنے مرزا سلطان احمد صاحب فرماتے ہیں کہ دو میں سلسلہ عالیہ احمدیہ کا مخالف نہیں ہوں میں مسیح موعود کو مانتا ہوں لیکن میرے اندر کچھ خامیاں کمزوریاں ہیں جن کی وجہ سے میں بیعت نہیں کرتا۔“ تیسری شہادت:۔محترمہ کرمه ام ناصر احد صاحب حرم اول سید امیر المومنین خلیفہ مسیح الانی ایده الله بنصرہ العزیز کی ہے یہ شہادت بھی میری بیوی محترمہ کے ذریعہ سے مجھ تک پہنچی ہے۔محترمہ ام ناصر احمد صاحب نے بیان کیا کہ ” حضرت مسیح موعود علیہ السلام صحن میں شہ نشین پر تشریف فرما وضو کر رہے تھے کہ خادمہ نے ایک کاغذ آپ کے حضور پیش کیا۔حضور نے اسی وقت وہ کاغذ کھول کر پڑھنا شروع کیا اور اسی وقت پڑھ کر اس کو چاک کر دیا اور فرمایا ” جب بھی سلطان احمد دعا کے لئے لکھتا ہے دنیاوی ترقی کے لئے ہی لکھتا ہے دین کے لئے کبھی نہیں لکھتا۔کچھ دنوں کے بعد مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کا عریضہ پھر حضور کی خدمت میں پیش ہوا جس میں لکھا ہوا تھا کہ حضور کی دعاؤں سے اللہ تعالیٰ نے مجھے ترقی عطا فرمائی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا میں نے تو دعا کی ہی نہیں ان شہادات کو بنظر غور دیکھا جاوے تو معمولی سے تدبر کے بعد معلوم ہو جاتا ہے کہ سیدنا مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی پر خان بہادر مرز ا سلطان احمد مرحوم کو کامل ایمان و یقین تھا۔لیکن بعض اپنی کمزوریوں کی وجہ سے بیعت عمد ا نہیں کرتے تھے کہ اس بیعت پر میں عمل پیرا نہیں ہوسکتا۔جھوٹا اقرار کیوں کروں۔لما تقولون مالا تفعلون حضور کا خادم خاکسار ملک حسن محمد احمدی قادیانی۔سمبر یا لوی حال عارضی مقام الہ آباد۔ریاست بہاولپور۔ضلع رحیم یار خان ۱۴/ نومبر ۱۹۴۹ء