سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 331 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 331

سیرت المہدی 331 گھوڑے پر سوار بدستور چلتے چلے گئے کہ راستہ میں دوبارہ پھر یہی الہام ہوا اور ساتھ ہی طبیعت پر آپ کو کچھ بوجھ بھی محسوس ہوا۔پھر آپ کو خیال ہوا کہ یہ کیا ماجرا ہے اور خیالات بہت پراگندہ ہوئے۔آپ نے بوقت تذکرہ بتلایا کہ آپ نے قیاس کیا کہ شائد تائی صاحبہ کا انتقال ہو گیا ہو۔مگر آپ اسی طرح گہرے خیالات کی سوچ بچار میں بدستور گھوڑے پر سوار چلتے گئے کہ پھر تیسری مرتبہ یہی الہام ہوا اور ساتھ ہی آپ کے دل پر بھی اس کا بہت گہرا اثر ہوا۔کچھ بوجھ سا دل پر اور بھی زیادہ محسوس ہوا۔جس سے آپ کی طبیعت بہت ہی خائف ہوگئی اور آپ ڈر گئے تو آپ راستہ میں ہی فوراً گھوڑے سے اتر کر زمین پر بیٹھ گئے اور دل میں انہی خیالات میں پریشان اور ملول ومحزون ہو گئے اور پریشان تھے کہ اس ماتم پرسی کے الہام کا حل کیا ہے۔کبھی آپ کو تائی صاحبہ کا خیال آتا اور کبھی حضرت والد صاحب کی وفات ( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ) کا خیال آتا۔کہ شائد آپ کا وصال ہو گیا ہے۔پھر بہت ہی گہری سوچ کے بعد یہ سوال آپ کے دل میں آیا کہ خدا تعالیٰ کی جانب سے ماتم پرسی ہو تو لازمی ہے کہ یہ کسی اعلیٰ اور ارفع ہستی کی موت اور وصال سے وابستہ ہے۔یہ خیال دل پر مسلط ہو گیا اور دل میں آپ کے یہ پورا یقین ہو گیا کہ بس یہ حضرت والد صاحب ( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ) کا ہی وصال ہے۔یہ خیال راسخ ہوتے ہی آپ پھر گھوڑے پر سوار ہو کر روانہ ہو گئے اور اسی غم وحزن کی حالت میں بجائے اپنے بنگلہ پر جانے کے آپ سیدھے ڈپٹی کمشنر صاحب جالندھر کے بنگلہ کو تشریف لے گئے۔اس وقت جالندھر میں کوئی انگریز ڈپٹی کمشنر تعینات تھے۔آپ نے سیدھے DC کے بنگلہ پر پہنچ کر صاحب سے ملاقات کی اور حصول رخصت کے لئے صاحب کو یہ اطلاع دی کہ میرے والد صاحب کا وصال ہو گیا ہے اس لئے فوراً رخصت دے دی جائے، میں جارہا ہوں۔اور یہ بھی بتلایا کہ میں اسی غرض سے دورہ سے سیدھا آپ کے بنگلہ پر آیا ہوں۔صاحب موصوف نے دریافت کیا کہ کیا والد صاحب کی وفات کی خبر آپ کو راستہ میں ملی ہے یا کوئی اور ذریعہ سے موصول ہوئی ہے۔یا کوئی آدمی آیا ہے۔آخر کیا معاملہ ہوا ہے مگر آپ نے صاحب سے عرض کیا کہ نہ کوئی تار آیا ہے نہ کوئی آدمی آیا ہے اور نہ کوئی اور ہی اطلاع موصول ہوئی ہے صرف خدائی تار آیا ہے۔صاحب موصوف نے اس کا سلسلہ دریافت کیا تو حضرت مرزا صاحب مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم و مغفور نے