سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 332
سیرت المہدی 332 اپنے راستہ کا تمام ماجرہ الہامی سنایا تو صاحب کو بہت حیرت ہوئی کہ اس پر اتنا یقین کر لینا یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے۔یونہی آپ کو وہم ہو گیا ہے۔آپ اطمینان رکھیں ایسا کوئی حادثہ نہیں ہوا ہے۔اس لئے آپ رخصت کے لئے جلدی نہ کریں۔اور گھبرائیں نہیں اطمینان کر لیجئے۔لیکن حضرت مرزا صاحب بدستور اپنے یقین کامل پر رخصت کے لئے مصر رہے اور پورے وثوق سے اس خدائی اطلاع پر ملول تھے۔مگر پھر آپ صاحب کے بہت اصرار پر اپنے بنگلہ پر تشریف لے آئے۔پہنچے ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ اطلاعی تار وفات حسرت آیات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ کو موصول ہوا۔چنانچہ آپ اسی ہم و غم میں اسی تار کو لے کر دوبارہ صاحب کے بنگلہ پر پہنچے اور بتلایا کہ اس وقت میں دورہ سے سیدھا آپ کے بنگلہ پر آ گیا تھا وہ خدائی اطلاع کی بناء پر تھا۔اب یہ تار بھی موصول ہو گیا ہے۔صاحب بہادر اس تمام کیفیت کو دیکھ کر بہت ہی حیران اور ششدرہ گئے کہ آپ لوگوں کو خدا پر کیسا یقین اور وثوق اور ایمان ہے۔اور وہ من و عن پورا بھی ہو رہا ہے۔چنانچہ حضرت مرزا صاحب رخصت پر فور اروانہ ہو گئے۔اور ماموں صاحب فرماتے تھے کہ جب حضرت مرز اصاحب جالندھر سے امرتسر پہنچے تو اسٹیشن پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا جنازہ بھی امرتسر پہنچ چکا تھا۔حضرت مرزا صاحب بھی شامل ہو گئے اور ساتھ ہی رہے۔ماموں صاحب منشی ظفر احمد صاحب بھی امرتسر میں تھے چنانچہ حضرت مرزا صاحب مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم نے یہ تمام ماجرا امرتسر میں ہی حضرت منشی ظفر احمد صاحب سے خود بیان فرمایا تھا۔“ ایک مرتبہ عاجز اور حضرت ماموں ظفر احمد صاحب قبلہ مسجد احمد یہ کپورتھلہ میں بیٹھے ہوئے تھے اور ایک دو دوست اور بھی موجود تھے یا کالج کے طالب علم جو حصول تعلیم کے لئے کپور تھلہ مقیم تھے وہ بیٹھے تھے یہ کمل یاد نہیں ہے۔میں نے ماموں صاحب کی خدمت میں اس روایت کے متعلق عرض کیا کہ میں نے یہ کئی بار آپ سے سنی ہے۔جہاں تک میرا خیال ہے یہ روایت سلسلہ میں محفوظ نہیں ہے۔اس لئے ایسی روایت کا محفوظ ہونا بہت ضروری ہے۔اس لئے میرا دل چاہتا ہے کہ اس روایت (مندرجہ صدر ) کو جس طرح میں نے آپ سے سنا ہے میں لکھ کر پیش کر دیتا ہوں آپ اس پر دستخط کر دیں تا کہ میں اس روایت کو اخبار الفضل