سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 330 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 330

سیرت المہدی 330 مكتوب مكرم عبدالرحمن خان خلف میاں حبیب الرحمن خان P۔O۔Tandlianwala Distt۔Lyall Pur Date۔21۔10۔49 هو الناصر بسم الله الرحمن الرحيم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود بحضور حضرت صاحبزادہ صاحب۔مکرم ومعظم واجب التعظیم والتکریم سلمۃ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔بہت ہی ادب و احترام سے یہ خاکسار حضور میں عرض پرداز تھے کہ اخبار الفضل مورخه ۲۰ / اکتوبر ۴۹ نمبری ۲۴۰ موصولہ امروزہ میں حضور نے حضرت صاحبزادہ رزا سلطان احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک روایت حسب تحریر برادر مکرم شیخ محمد احمد صاحب ایڈووکیٹ سابق کپورتھلہ حال لائل پور طبع فرمائی ہے جو کہ بزبانی حضرت ماموں صاحب منشی ظفر احمد صاحب سے سنی ہوئی ہے اور کئی مرتبہ دوسرے احباب کو بھی سناتے ہوئے خود سنا ہے۔اس لحاظ سے خاکسار شاہد ہے۔اور چونکہ یہ سلسلہ کی تاریخی روایت ہے۔اس لئے میں روایت کے متعلق جس قدر میرے ساتھ ماموں ظفر احمد صاحب مرحوم نے تذکرہ فرمایا وہ مجھے بخوبی یاد ہے۔چنانچہ خاکسار بھی حضور میں عرض پرداز ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ۔خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ روایت صحیح عرض کر رہا ہوں تا کہ محفوظ رہے۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب مرحوم و مغفور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود مجھ سے بھی تذکرہ فرمایا اور میری موجودگی میں بھی کئی مرتبہ مسجد احمد یہ کپورتھلہ میں اس روایت کا اس طرح تذکرہ فرمایا تھا کہ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وصال ہوا ہے۔جالندھر میں بعہدہ افسر مال تعینات تھے۔حضور کی وفات سے پیشتر علاقہ میں دورہ پر گئے ہوئے تھے۔جس روز علاقہ کے دورہ سے واپس گھوڑے پر سوار جالندھر کی جانب تشریف لا رہے تھے کہ راستہ میں یکلخت آپ کو الہام ہوا ”ماتم پرسی“ آپ اس الہام پر پہلی مرتبہ تو کچھ نہ سمجھے اور گہری سوچ میں پڑ گئے اور