سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 308
سیرت المہدی 308 حصہ پنجم تو ہمارے ساتھ ایک ہندو بھی یکہ پر سوار ہونے والا تھا۔تو جس طرح مفتی صاحب آپ تاڑ کر مجھے سایہ کی طرف بٹھاتے ہیں وہ بھی اسی طرح تاڑ کر جلدی سے اچھل کر خود سایے کی طرف بیٹھ گیا۔ہم دھوپ میں ہی بیٹھ گئے اور اسے کچھ نہ کہا۔پھر جونہی ہم روانہ ہوئے تو اسی طرح بدلی کا ٹکڑا سورج کے سامنے آگیا اور سارے راستے میں ہم پر سایہ کیا پھر جب اترنے لگے تو ہندو نے اپنے فعل پر شرمندہ ہو کر کہا۔آپ دھوپ میں بیٹھے تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ پر سایہ کر دیا۔آپ کے طفیل ہم بھی آرام سے پہنچ گئے۔خاکسار محمد احمد عرض کرتا ہے کہ جب پہلے مفتی صاحب سے یہ روایت سنی تھی اس وقت مفتی صاحب نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اس ہندو کے منہ سے بے اختیار رام رام کے الفاظ نکل پڑے تھے۔1559 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔صفیہ بیگم بنت مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کہ غالبا جناب والد صاحب مرحوم ۱۸۹۸ء میں یہاں قادیان شریف بالکل ہی آگئے تھے۔ان کی موجودگی میں ہی جناب میاں مبارک احمد صاحب مرحوم تولد ہوئے تھے۔ان کی پیدائش کا سن ہی ہماری بیعت کا سن تھا۔والد صاحب کی بیعت تو بہت پہلے کی ہوگی۔ہمیں پتہ نہیں۔ہم سب حضرت اقدس کے اسی مکان میں اترے کچھ عرصہ یہاں ہی ٹھہرے۔جناب حضرت مسیح موعود نہایت سادہ پوشاک رکھتے تھے۔بعض دفعہ تو ازار بند کے ساتھ چابیوں کا گچھا بھی لٹکتا ہوتا تھا۔ہمیشہ نیم وا آنکھیں رکھتے تھے۔کبھی سر مبارک پر رومی ٹوپی ہوتی تھی اور بعض دفعہ لکھنے میں بہت مصروفیت ہوتی تھی۔ننگے سر بھی ہوتے تھے۔ہر وقت اوپر، جہاں آج کل حضرت ام المومنین مدظلها تشریف رکھتی ہیں ، رہتے تھے۔اور اکثر وقت لکھتے ہی رہتے تھے۔بہت دفعہ دیکھا ہے کہ کمرے کے اندر ٹہلتے ٹہلتے بھی لکھتے رہتے تھے۔تخت پر لکھے ہوئے اور سفید کاغذ رکھے ہوئے ہوتے تھے۔ایک دفعہ میں حیرانی سے بڑی دیر کھڑی دیکھتی رہی بوجہ مصروفیت آپ کو کچھ خبر نہ تھی۔چونکہ میں اپنے والد صاحب مرحوم کا کچھ پیغام لے کر آئی تھی اس لئے میں نے حضرت جی کہہ کر آواز دی۔جو عرض کرنا تھا کیا۔نہایت نرمی سے حضور اقدس نے فرمایا کہ حرج ہوتا ہے اس لئے میں جلدی چلی گئی اور اکثر شام کو حضرت صاحب صحن میں بالا خانے پر چار پائی پر بیٹھے ہوتے تھے۔مولوی محمد احسن صاحب مرحوم ان کے پاؤں دبایا کرتے تھے۔