سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 309
سیرت المہدی 309 حصہ پنجم 1560 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔صفیہ بیگم بنت مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میرے والد صاحب نے مجھے بھیجا کہ جا کر حضرت صاحب سے عرض کرو کہ اب میں کیا کروں۔میں گئی۔حضور اقدس صحن میں کھٹولی پر پاؤں لٹکائے بیٹھے تھے۔مولوی محمد احسن صاحب مرحوم پاؤں دبا رہے تھے۔میں نے جا کر والد صاحب کی طرف سے کہا۔آپ نے فرمایا ” حضرت مولوی صاحب سے کہو کہ باہر جاویں تبلیغ کے لئے“۔میں نے آکر والد صاحب کو کہہ دیا۔والد صاحب ہنسے اور بہت خوش ہوئے۔فرماتے تھے۔اللہ اللہ حضرت صاحب کو تبلیغ سب کاموں سے پیاری ہے اور میرے دل میں بھی تبلیغ کا بہت شوق ہے۔یہ اس لئے کہا کہ والدہ صاحبہ چاہتی تھیں کہ احمد یہ سکول میں منطق عربی پڑھانے پر ملازم ہو جاویں شاید سکول میں عرضی بھی دی ہوئی تھی۔1561 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔صفیہ بیگم بنت مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت اماں جان صاحبہ بھی او پر بالا خانہ میں بیٹھی تھیں۔میں بھی گئی بیٹھ گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ حضرت مولوی صاحب پٹیالے سے رسد کے کتنے روپے لائے ہیں؟ میں نے کہا کہ میری بہن کی شادی پر والدہ صاحبہ نے قرض لے کر خرچ کیا تھا۔کچھ تو وہ ادا کر دیا باقی ہمارے سب کے کپڑے بنادئے۔فرمانے لگے۔کیا خرچ کیا تھا۔میں نے کہا کہ کپڑے زیور برتن وغیرہ جو کچھ کیا تھا بتا دیا۔فرمانے لگے کہ قرض لے کر خرچ کرنا گناہ ہے۔اماں جان نے فرمایا کہ حضرت رسول کریم ﷺ نے کیوں بی بی فاطمہ کو چکی دی تھی؟ حضور مسیح موعود علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا۔وہ قرض لے کر نہیں دی بلکہ گھر میں موجود تھی۔1562 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔صفیہ بیگم بنت مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ پہلے ہم پیر سراج الحق ( لمبے پیر ) کے ساتھ چوبارے میں رہتے تھے۔اور ہمارے ساتھ محمد اسماعیل یا کچھ اور نام تھا ، ان کی بیوی رہتی تھی۔ایک دوماہ کے بعد پھر حضرت صاحب کے قریب ایک کچا مکان خالی تھا وہ آپ نے ہمیں کرائے پر لے دیا۔وہاں 66