سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 292 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 292

سیرت المہدی 292 حصہ پنجم بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نماز پڑھانے کے واسطے تشریف لے جا رہے تھے تو خاکسارہ سے فرمایا کہ میری ٹوپی اندر سے لے آؤ۔میں دو دفعہ گئی لیکن پھر واپس آگئی۔تیسری دفعہ گئی تو میاں شریف احمد صاحب نے کہا کہ تمہیں ٹوپی نہیں ملتی آؤ۔میں تمہیں بتا دوں۔یہ کہہ کر میاں صاحب نے ” تا کی میں سے ٹوپی اٹھالی۔میں نے کہا یہ تو میں نے دیکھ کر رکھ چھوڑی تھی۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ” آپ سمجھتی ہوں گی کہ کوئی بڑی اعلی ٹوپی ہوگی۔ہم ایسی ہی ٹوپیاں پہنا کرتے ہیں۔“ 66 1527 بسم اللہ الرحمن الرحیم محترمہ حسن بی بی صاحبہ اہلیہ ملک غلام حسین صاحب رہتاسی نے بواسطه مکرمه محترمه مراد خاتون صاحبه والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”میرا چوتھا لڑکا کوئی چار پانچ سال کا تھا کہ اس کو سانپ نے کاٹ لیا تھا۔اس نے سانپ کو دیکھا نہ تھا اور یہ سمجھا تھا کہ اس کو کانٹا لگا ہے۔میں نے بھی سوئی سے جگہ پھول کر دیکھی۔کچھ معلوم نہ ہوالیکن جب بچہ کو چھالا ہو گیا اور سوج پڑ گئی تو معلوم ہوا کہ وہ کانٹا نہیں تھا بلکہ سانپ نے کاٹا تھا جس کا زہر چڑھ گیا ہے۔بچہ چھٹے دن فوت ہو گیا تھا۔جب حضور علیہ السلام کو علم ہوا تو حضور نے افسوس کیا اور فرمایا کہ ” مجھے کیوں پہلے نہیں بتایا ؟ میرے پاس تو سانپ کے کاٹے کا علاج تھا۔مجھے بچے کے فوت ہونے کا بہت غم ہوا تھا اور میں نے رورو کر اور پیٹ پیٹ کر اپنا بُرا حال کر لیا تھا۔جب حضور کو حضرت ام المومنین نے یہ بات بتائی تو حضور نے مجھے طلب فرما کر نصیحت کی اور بڑی شفقت سے فرمایا کہ دیکھو حسن بی بی! یہ تو خدا کی امانت تھی اللہ تعالیٰ نے لے لی۔تم کیوں پریشان ہوتی ہو؟ اور فرمایا کہ ایک بڑی نیک عورت تھی اس کا خاوند باہر گیا ہوا تھا جس دن اس نے واپس آنا تھا۔اتفاقاً اس دن اس کا جوان بچہ جو ایک ہی تھا فوت ہو گیا تھا۔اس عورت نے اپنے لڑکے کو نسل اور کفن دے کر ایک کمرے میں رکھ دیا اور خود خاوند کے آنے کی تیاری کی۔کھانے پکائے، کپڑے بدلے، زیور پہنا اور جب خاوند آیا تو اس کی خاطر داری میں مشغول ہو گئی۔جب وہ کھانا کھا چکا تو اس نے کہا کہ میں آپ سے ایک بات دریافت کرتی ہوں اور وہ یہ ہے کہ اگر کسی کی امانت کسی کے پاس ہو اور وہ اس کو واپس مانگے تو کیا کرنا چاہئے؟ اس نے کہا کہ فوراً امانت کو شکریہ کے ساتھ واپس کر دینا چاہئے۔“ تو اس نیک بی بی نے کہا کہ اس امانت میں آپ کا بھی حصہ ہے پس وہ اپنے خاوند کو اس کمرے میں لے گئی