سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 293 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 293

سیرت المہدی 293 حصہ پنجم جہاں بچہ کی نعش پڑی تھی اور کہا کہ اب اس کو آپ بھی خدا کے سپر د کر دیں یہ اس کی امانت تھی جو اس کو دے دی گئی ہے؟“ یہ سن کر میرا دل ٹھنڈا ہو گیا اور میں نے اُسی وقت جزع فزع چھوڑ دی اور مجھے اطمینان کلی حاصل ہو گیا۔اسکے بعد میں نے اپنے خاوند سے کہا کہ ” مجھے اپنے وطن جہلم لے چلو۔“ اس نے حضور سے اجازت طلب کی۔حضور نے فرمایا کہ ” تمہاری بیوی کو نیا نیا صدمہ پہنچا ہے۔یہ وہاں جا کر پھر غم کرے گی اس لئے میں ابھی اجازت نہیں دیتا۔پھر عرصہ تین سال کے بعد جب اجازت ملی تو میں اپنے وطن گئی۔“ 1528 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔محترمہ عائشہ بیگم صاحبہ اہلیہ بابومحمد ایوب صاحب بد و ملہوی نے بواسطه مکرمه محترمه مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ۱۹۰۸ء میں جبکہ حضور علیہ السلام لاہور اپنے وصال کے دنوں میں تشریف فرما تھے۔عاجزہ نے حضور کے دست مبارک پر بیعت کی۔غالباً ۱۲ یا ۱۳ مئی ۱۹۰۸ء کو بیعت کی۔خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان میں میرے خاوند بابو محمد ایوب صاحب نے پہنچایا اور تھوڑا سا پھل عاجزہ کو ایک رومال میں ساتھ دیا۔خواجہ صاحب موصوف کی اہلیہ کو عاجزہ نے کہا کہ میں نے حضرت صاحب کی بیعت کرنی ہے۔“ اس نے جواب دیا کہ ”ابھی عورتیں بیعت کر کے اتری ہیں اگر آپ ذرا پہلے آجاتیں تو ساتھ ہی چلی جاتیں۔اب دریافت کر لیتی ہوں بیٹھ جائیں۔“ تھوڑی دیر بعد مجھے ایک لڑکی لے گئی۔آپ اوپر بالا خانہ میں ایک کمرے میں تشریف فرما تھے۔ایک طرف حضرت ام المؤمنین ایک پلنگ پر بیٹھی ہوئی تھیں۔میں ”السلام علیکم عرض کر کے حضرت اماں جان کے پلنگ کے پاس بیٹھ گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ کون لڑکی ہے؟“ اماں جان نے جواباً فرمایا کہ پچھلے سال حسن بی بی بدوملہوی بہو بیاہ کر لائی تھی یہ وہی لڑکی ہے۔وہ پھل والا رومال میں نے حضرت اماں جان کے پلنگ پر رکھ دیا تھا پھر میں نے عرض کی کہ میں نے بیعت کرنی ہے۔“ اماں جان نے حضرت صاحب سے فرمایا کہ " یہ بیعت کرنا چاہتی ہے۔تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ یہاں آجائے۔وہ رومال جو میں نے حضرت اماں جان کے پاس رکھا تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قریب جاتے ہوئے اپنی کم عمری کی وجہ سے ساتھ ہی لے گئی اور حضور کے پاس رکھ دیا۔بیعت کے بعد حضور نے اپنی جیب سے چاقو نکالا اور ایک سیب کا ٹا اور ایک قاش مجھے عطا فرمائی اور ایک حضور علیہ 66