سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 280 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 280

سیرت المہدی 280 حصہ پنجم میں اس وقت حضرت مولوی نور الدین صاحب کے مطب میں بیٹھا ہوا تھا اور شیخ عبدالرحیم صاحب بھی وہاں ہی بیٹھے ہوئے تھے۔حضرت مولوی صاحب نے مجھے فرمایا کہ اس کو اپنے گاؤں سیکھواں میں ہمراہ خود لے جاؤ۔چنانچہ میں نے فورا تعمیل کی اور ہم دونوں سیکھواں پہنچ گئے چونکہ سیکھواں میں کثرت سکھ قوم کی تھی انہوں نے سکھ برادری سے میل جول کیا۔بعد میں ہمارے مکان پر پہنچ گئے اور شیخ صاحب سے بخوشی مل ملا کر آخر مطالبہ کیا کہ ہم گاؤں سے باہر لے جا کر کچھ باتیں کرنا چاہتے ہیں۔اگر چہ شیخ صاحب اور ہم ان کے اس مطالبہ کو پسند نہ کرتے تھے۔لیکن ان کے جذبہ مطالبہ کو بوجہ رشتہ داری نظر انداز کرنا مناسب نہ خیال کر کے رضا مندی دے دی گئی جب گھر سے باہر نکلے تو تھوڑے فاصلہ پر جا کر ایک میدان ہے جب وہاں پہنچے تو وہاں اور سکھ وغیرہ جمع تھے یہی گفتگو چھڑ گئی۔شیخ صاحب نے رشتہ داران خود کو کہا کہ ” اگر تم زبر دستی مجھ کو ساتھ لے جاؤ گے تو میں پھر آجاؤں گا اور مسلمان ہو جاؤں گا۔“ اس پر ایک سکھ جو سیکھواں کا باشندہ اور روڑ سنگھ نام تھا، بڑے جوش سے بولا کہ ” خواہ مخواہ نرم نرم باتیں کرتے ہو۔ڈانگ پکڑ کر آگے لگاؤ۔ہم بھی وہاں کھڑے تھے۔اس سکھ کے جواب میں ہماری طرف سے ہمارے بڑے بھائی میاں جمال الدین صاحب مرحوم نے کہا کہ ” دیکھو! اگر شیخ صاحب عبد الرحیم جو ہمارا بھائی ہے اپنی خوشی سے تمہارے ساتھ چلا جاوے تو ہم روک نہیں سکتے اور اگر زبردستی لے جانا چاہو تو پہلے ہم کو مارلو گے تو اس کو لے جاؤ گے ورنہ ہر گز نہیں لے جا سکتے۔پس اس پر سلسلہ گفتگو ختم ہوا۔آخر انہوں نے التجا کی کہ ہم اس کو الگ لے جا کر ایک بات کرنا چاہتے ہیں۔چنانچہ گاؤں سے کچھ فاصلہ پر چھپڑر ( جو ہر ) تھا وہاں چلے گئے اور ہم بھی اپنے پہرے پر کھڑے رہے کہ آخر شیخ صاحب نے ان کی کوئی نہ مانی۔وہ وہاں سے ہی واپس چلے گئے اور شیخ صاحب ہماری طرف آگئے۔اس وقت ہم مع شیخ صاحب قادیان پہنچ گئے۔شام کی نماز کے بعد حضرت اقدس کے حضور تمام حالات بیان کئے گئے۔حضور علیہ السلام نے اس پر ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ ”مولوی صاحب نے بہت غلطی کی کہ قادیان سے باہر ان کو بھیج دیا۔قادیان سے زیادہ امن کی جگہ کون سی ہے؟“ 1500 بسم اللہ الرحمن الرحیم محترمہ عائشہ صاحبہ بنت احمد جان صاحب خیاط پیشاوری وز وجه