سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 279
سیرت المہدی 279 حصہ پنجم چاہئے۔جب اس کا جی چاہے وہ پھر آسکتا ہے۔میں نے حضرت صاحب سے اجازت لے کر اس کو اندر بلا لیا تا کہ وہ حضرت صاحب کا ارشاد خود حضور کی زبان سے سن لے۔اس کی حاضری پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ جاسکتے ہیں اور پھر جب چاہے آسکتے ہیں۔اسپر اس نے بطور ورد و و وظائف کچھ پڑھنے کے لئے دریافت کیا۔حضور نے فرمایا کہ انتباع سنت اور نمازیں سنوار کر پڑھنا سب سے اعلیٰ وظیفہ ہے اس کے علاوہ چلتے پھرتے درود شریف، استغفار اور جس قدر وقت فراغت میسر ہو قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھنا کافی ہے۔ہمارے ہاں الٹے لٹک کر یا سردی میں پانی میں کھڑے ہو کر چلہ کرنے کا خلاف سنت کوئی طریق نہیں ہے۔اس پر اس درویش نے باصرار کہا کہ میں چونکہ سن شعور سے ہی مجاہدات کا عادی ہوں۔اس لئے بطریق مجاہدہ اگر کچھ فرما دیا جاوے تو میں اب اس کے موافق کار بند رہوں گا۔اس کی یہ بات سن کر حضرت صاحب اٹھے اور اندر جاکر ایک پلندہ براہین احمدیہ کے اس حصہ کا جو اس وقت تک شائع ہوا تھا اٹھا لائے اور اس کو دے کر فرمایا کہ ”لو جہاں جاؤ اس کو خود بھی پڑھو اور دوسرے لوگوں کو بھی سناؤ۔خدا نے اس وقت کا یہی مجاہدہ قرار دیا ہے۔منشی صاحب نے فرمایا کہ اس کے بعد ہم باہر آگئے۔اگلے روز وہ شخص میری معیت میں امرتسر آ گیا۔وہاں سے اپنے وطن کی طرف روانہ ہو گیا پھر اس کے متعلق کوئی اطلاع نہیں ملی۔1497 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ "کتب فقہ پر بھی نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔“ 1498 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی مہربانی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تو بخشنے کے لئے بہانے لبھدا ہے ( یعنی تلاش کرتا ہے )۔1499 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جن دنوں شیخ صاحب بھائی عبدالرحیم صاحب ( سابق نام جگت سنگھ ) نے اسلام قبول کیا۔چند روز بعد موضع سرسنگھ جہال سے جو شیخ صاحب موصوف کا اصلی گاؤں ضلع امرتسر یا ضلع لاہور میں ہے ان کے رشتہ دار جو خوب قد آور اور جوان تھے پانچ چھ کس قادیان میں شیخ صاحب کو واپس لے جانے کی نیت سے آئے۔