سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 281 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 281

سیرت المہدی 281 حصہ پنجم چوہدری حاکم علی صاحب نے بواسطہ مکرمہ مراد خاتون صاحبه والدہ خلیفہ صلاح الدین بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ۱۹۰۴ء میں جب بڑا زلزلہ آیا تو ہم سب حضور علیہ السلام کے ساتھ باغ میں چلے گئے تھے۔میں قریباً آٹھ سال کی تھی۔حضرت اماں جان نے باغ میں جھولا ڈالا ہوا تھا۔میں حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ، صالحہ بیگم صاحبہ اہلیہ میرمحمد الحق صاحب بنت پیر منظور محمد صاحب ، میری بہن فاطمہ بیگم وفہمیدہ وسعیده بنت پیر افتخار احمد صاحب ہم سب جھولا جھول رہی تھیں۔جب میری باری آئی تو حضوڑ وہاں سے گزرے۔حضور علیہ السلام ہمیں دیکھ کر ہنسے۔1501 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔محترمہ رسول بی بی صاحبہ اہلیہ حافظ حامد علی صاحب وخوشدامن مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل نے بواسطہ محترمہ مکرمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میں اور رسول بی بی صاحبہ اہلیہ خورد با بوشاہ دین ہم دونوں رات کو حضور علیہ السلام کے پیر دبایا کرتے تھے۔ایک دن حضور نے فرمایا کہ ”جب مجھے الہام ہونے لگے تو مجھے جگا دیا کرو۔حضور کو الہام ہونا شروع ہوا تو وہ کہتی تھی کہ تو جگا اور میں کہتی تھی تم جگاؤ آخر میں نے کہا کہ حضور کا حکم ہے اگر نہ جگایا تو گناہ ہوگا۔ہم نے جگا دیا۔حضور نے دریافت کیا کہ تم نے کچھ سنا ہے یا تم کو کچھ معلوم ہوا ہے؟ میں نے کہا نہیں، قلم دوات حضور کے سرہانے تھی حضور نے لکھ لیا۔فرمایا کہ اب میں پہلے وقت تم کو ہی پہرہ پر رکھا کروں گا۔بارہ ایک بجے الہام ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔ہمیں معلوم تھا کہ جب حضور کو الہام ہونے لگتا تھا تو حضور کو عموماً سردی محسوس ہوتی تھی جس سے کچھ کپکپی ہو جاتی تھی اور حضور کچھ گنگنایا بھی کرتے تھے۔1502 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔لال پری صاحبہ پٹھانی دختر احمد نور صاحب کا بلی نے بواسطہ مکرمه محترمه مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب ہم اپنے وطن سے آئے تھے تو میری آنکھیں بہت درد کرتی تھیں اور ہر موسم میں آجاتی تھیں۔وطن میں بھی علاج کیا۔قادیان میں بھی بہت علاج کیا۔کوئی آرام نہیں ہوتا تھا۔ایک دن میں نے اپنی والدہ مرحومہ سے کہا میرا دل چاہتا ہے کہ میں حضرت اقدس کی خدمت میں جاؤں اور آنکھوں کو دم کراؤں۔شاید میں اچھی ہو جاؤں؟“