سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 278
سیرت المہدی 278 حصہ پنجم ہوا ہے حضور کو دیکھا ہے۔یہی لنگی اسی بندش کے ساتھ زیب سر تھی۔اس کے بعد حضرت صاحب نے شیخ صاحب کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ اگر خدا سے ملنے کی کسی دل میں طلب صادق ہو تو کچھ مدت بطور ابتلا اور آزمائش اس کو تعویق میں رکھ کر اس کو عزم اور استقلال کی منازل سے گزار کر آخر خود اس کی ہدایت کا سامان مہیا کر دیتا ہے اس کے بعد ہم باہر آ گئے۔1496 بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد کرم الہی صاحب پٹیالہ نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ شیخ محمد حسین صاحب مرحوم مراد آبادی نے بیان کیا کہ اگلے روز جب میں چلنے لگا تو درویش صاحب سے ان کا ارادہ پوچھا۔اس نے کہا کہ بس میں اب کہاں جاؤں گا ؟ آپ جائیں۔میں تو حضرت صاحب جو حکم دیں گے اس کے موافق کار بند رہوں گا۔شیخ صاحب اس کو وہیں مہمانخانہ میں چھوڑ کر تنہا امرتسر واپس آگئے۔اگلے ہفتہ پھر گئے۔درویش صاحب سے دریافت پر اس نے یہ کہا کہ نمازیں مسجد میں جا کر پڑھ لیتا ہوں اور جس وقت تک حضرت صاحب تشریف رکھتے ہیں حاضر رہتا ہوں اس کے بعد مہمانخانہ آکر پڑھتا ہوں اور اللہ اللہ کئے جاتا ہوں۔حضرت صاحب نے کچھ خاص طور پر فرمایا نہیں اور مجھ کو کچھ کہنے کی یا در یافت کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔شیخ صاحب نے فرمایا کہ اسی طرح جب حسب معمول تین چار دفعہ ہر ہفتہ پروف لے کر قادیان جاتا اور آتا رہا۔اس شخص نے ہر دفعہ وہی جواب دیا جو اول دفعہ دیا تھا۔آخر ایک دفعہ جو میں گیا تو اس نے حضرت صاحب کے بارہ میں تو وہی کیفیت ظاہر کی لیکن مجھ سے خواہش کی کہ چونکہ اب مجھے اپنی تلاش میں تو خدا تعالیٰ نے کامیابی عطا فرما دی ہے، دو تین دن سے مجھے خیال آرہا ہے کہ اگر حضرت صاحب اجازت فرماویں تو میں اپنے متعلقین کی وطن جا کر خبر لے آؤں۔کیونکہ مجھے ان کے مرنے جینے کا اور ان کو میرا اس لمبے عرصہ تک کچھ پتہ نہیں ملا اور چونکہ میں خود حضرت صاحب سے دریافت کرنے کی جرات نہیں رکھتا آپ اگر حضرت صاحب سے اس بارہ میں تذکرہ فرما دیں تو جیسا پھر حضرت صاحب کی طرف سے اشارہ ہوگا۔میں اسی کے موافق عمل کروں گا۔منشی صاحب نے فرمایا کہ جب میں حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے درویش صاحب کی اس خواہش کا ذکر کیا تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ہاں ! وہ بڑی خوشی سے جاسکتے ہیں کوئی پابندی نہیں ہے بلکہ ضرور جا کر اپنے بال بچہ کی خبر گیری کرنی