سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 268 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 268

سیرت المہدی 268 حصہ پنجم کیا کہ ابتدائے دعویٰ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے وقت مولوی اللہ دتہ محمد علی وغیرہ سوہلوی کے ساتھ مقابلہ ہوتا رہتا تھا۔ایک دفعہ موضع اٹھوال ضلع گورداسپور میں ( اٹھوال میں اب بفضل خدا کافی جماعت قائم ہے ) مقابلہ ہوا۔چونکہ اس سے پہلے کئی مقابلے ہو چکے تھے اس لئے اس روز مباہلہ پر زور دیا گیا کہ مباہلہ کیا جاوے تا فیصلہ ہو جاوے۔صدہا آدمی موجود تھے۔قریباً کئی گھنٹہ تک بالمقابل مباہلہ پر گفتگو ہوتی رہی۔احمدیت کی طرف سے خاکسار بولتا تھا اور مخالفین کی طرف سے مولوی اللہ دتہ تھا۔وہ تمسخر واستہزاء میں وقت ضائع کر رہا تھا۔ہر چند امن کے ساتھ تصفیہ کی طرف متوجہ کیا گیا لیکن وہ تمسخر واستہزاء سے باز نہ آیا۔آخر مجلس بلا تصفیہ برخواست ہوگئی۔مجھے یاد ہے کہ شیخ غلام مرتضی صاحب والد شیخ یوسف علی صاحب (سابق پرائیویٹ سیکرٹری حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) وہاں مع دیگران موجود تھے۔احمدیوں کے کلام اور رویہ سے نہایت متاثر تھے۔خیر مباہلہ تو نہ ہوا لیکن خدا تعالیٰ کی مشیت نے اسی سال کے اندر ہی مولوی اللہ دتہ کو طاعون میں گرفتار کر کے ہلاک کر دیا۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ ـ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون 1485 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں سوال کیا کہ شادیوں کے موقعہ پر اکثر لوگ باجا، آتش بازی وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں اس کے متعلق شرعی فیصلہ کیا ہے؟ فرمایا کہ ” آتش بازی تو جائز نہیں۔یہ ایک نقصان رساں فعل ہے اور باجا کا بغرض تشہیر نکاح جواز ہے“۔66 1486 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ عید کا دن تھا اور اسی عید گاہ میں عید پڑھی گئی تھی جس کا آج کل غیر احمدی تنازعہ کرتے ہیں کہ احمدی جبرا قبضہ کر رہے ہیں۔حضور علیہ السلام بھی عید گاہ میں پہنچ گئے تھے اور ٹہل رہے تھے کہ پہلے مجھے حکیم فضل دین صاحب مرحوم بھیروی نے کہا کہ سب مسلمان یہاں آگئے ہیں تم شہر چلے جاؤ تا مستورات کی حفاظت ہو جائے۔ابھی میں تامل میں تھا کہ حضور علیہ السلام ٹہلتے ہوئے اسی موقعہ پر آگئے۔یہاں حکیم