سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 269
سیرت المہدی 269 حصہ پنجم صاحب سے باتیں ہورہی تھیں۔حکیم صاحب نے حضوڑ کے پیش کر دیا کہ میاں خیر الدین کو کہا ہے کہ شہر میں جا کر حفاظت مستورات کرے۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ کسی اور کو حفاظت کے لئے بھیج دو حکیم صاحب نے دوبارہ میرا نام پیش کر دیا۔حضور نے انکار کیا۔حکیم صاحب نے دوبارہ میرا نام ہی پیش کر دیا تو حضور علیہ السلام نے کسی قدر جھڑ کی کے ساتھ روک دیا تو حکیم صاحب خاموش ہو گئے۔1487 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے مباحثات و مناظرات کو حکماً بند کر دیا۔انہیں ایام میں مولوی اللہ دتہ، علی محمد سوہلوی ومولوی عبدالسبحان ساکن مسانیاں وغیرہ یکا یک موضع ہرسیاں میں آگئے۔اس وقت بھائی فضل محمد صاحب ( والد مولوی عبد الغفور صاحب مبلغ منشی نور محمد صاحب وغیرہ تھے۔ہرسیاں والے احمدی برادران نے مولوی فتح الدین صاحب کو دھر مکوٹ بگہ سے بلا لیا اور سکھواں میں ہماری طرف بھی بلانے کے لئے آدمی آگیا۔چونکہ حضور علیہ السلام کا حکم نسبت بند کرنے مباحثات ومناظرات کے ہم کوعلم تھا۔اس لئے میں اور میرے بڑے بھائی میاں امام الدین صاحب ( والد مولوی جلال الدین صاحب شمس مبلغ ) روانہ ہرسیاں ہو گئے اور ہمارے سب سے بڑے بھائی میاں جمال الدین صاحب مرحوم برائے حصول اجازت قادیان روانہ ہو گئے اور وہاں فیصلہ یہ ہوا کہ تا وقتیکہ قادیان سے اجازت نہ آوے مباحثہ نہیں ہوگا۔ہم نے ہرسیاں جا کر یہ خبر سنادی اور مباحثہ روک دیا گیا۔اب مخالفین کی طرف سے پیغام پر پیغام آتے ہیں کہ میدان میں نکلو اور ہم خاموش تھے لیکن زبانی طور پر ان کو جواب دیا گیا کہ ہم ایک امر کے منتظر ہیں جب حکم پہنچے گا تب مناظرہ کریں گے ورنہ نہیں۔اس پر مخالفین نے خوشی کے ترانے گانے شروع کر دئے۔وہاں کا نمبر دار چوہدری فتح سنگھ صاحب ان کی طرف سے آیا اور مجھے الگ کر کے کہا کہ اگر آپ میں طاقت مباحثہ نہیں ہے تو آپ مجھے کہہ دیں تو میں ان کو کسی وجہ سے یہاں سے روانہ کر دیتا ہوں۔میں نے کہا کہ ہم میں خدا تعالیٰ کے فضل سے مباحثہ کرنے کی طاقت ہے اور فریق مخالف ہماری طاقت کو جانتا ہے لیکن ہم اپنے پیشوا کے تابع ہیں۔قادیان ہمارا آدمی برائے حصول اجازت گیا ہوا ہے اس کے آنے کے ہم منتظر ہیں۔اگر قادیان سے اجازت حاصل ہو گئی تو ہم مباحثہ کریں گے اور ہماری طاقت کا علم آپ کو ہو جائے گا۔اگر