سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 267 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 267

سیرت المہدی 267 حصہ پنجم دعوت دی حضور علیہ السلام نے بڑی خوشی کا اظہار کیا۔اس سفر میں سیٹھ عبد الرحمن صاحب مدراسی بھی ساتھ تھے۔حضور پالکی میں تھے۔( پالکی قدیم پنجاب کی سواری تھی قریباً چار آدمی اٹھاتے تھے ) اور سیٹھ صاحب یکہ پر تھے۔ہم سب بھائی پالکی کے ساتھ ساتھ چلتے تھے اور ہم نے روزے رکھے ہوئے تھے۔جب روزے کا ذکر ہوا تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ سفر میں روزہ نہیں ہے۔“ ہم نے اسی وقت افطار کر دئے۔دوسرے روز بمقام کارخانہ دھار یوال میں پیش ہوئے (کھونڈا سے ایک میل کے فاصلہ پر تھا) آئندہ تاریخ گورداسپور کی ہوگئی۔زائرین کا ہجوم اس قدر تھا کہ آخر حضور علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی گئی کہ زائرین مضطرب زیارت ہیں لیکن کثرت کی وجہ سے اطمینان سے زیارت نہیں کر سکتے۔حضور علیہ السلام درخواست کو منظور فرما کر نہر کے پل پر کھڑے ہو گئے اور لوگوں کو زیارت کا موقع دیا گیا۔نوٹ: مولوی محمد حسین اس نظارہ کو دیکھتا تھا لیکن حسرت کی نگاہ سے ( افسوس) آخر مجسٹریٹ ضلع نے مولوی محمدحسین سے لکھوا لیا کہ ”میں آئندہ مرزا صاحب کو کا فرنہیں کہوں گا۔اور سب انسپکٹر کے ہاتھوں پر مہری ( چندرا) کے زخم ہو گئے جس سے وہ جانبر نہ ہوسکا۔صدق الله تعالى۔" يَعُضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ وَيُؤْثِق“ حضور علیہ السلام سے اسی مجسٹریٹ ضلع نے پوچھا کہ آپ اس کو کافر کہتے ہیں۔حضور نے جواب دیا کہ ”میں نے اس کو نہیں کہا بلکہ اس نے مجھ پر کفر کا فتوی لگایا اس لئے وہ خود کا فر ہوا۔اور اس پر آپ نے دستخط کر دئے۔“ 1483 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔برکت بی بی صاحبہ اہلیہ اللہ یار صاحب ٹھیکیدار نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میں اکثر اپنی بہن کے لڑکے کو جو چھ یا آٹھ سال کا تھا حضرت اقدس کے گھر میں لے جاتی تھی۔ایک دن اس کو جبکہ نماز پڑھ رہی تھی کھانسی ہوئی۔حضور نے فرمایا کہ اس بچہ کو کالی کھانسی ہے جب تک آرام نہ ہو یہاں ساتھ نہ لایا کرو۔میں نے عرض کی کہ حضور دعا فرماویں کہ آرام ہو جائے۔چنانچہ بچہ کوجلد آرام ہو گیا تھا۔1484 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان