سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 263 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 263

سیرت المہدی 263 حصہ پنجم گھبرا گئے۔میں تو قریباً ۳۰ سال سے یہی جواب سن رہا ہوں کہ ” تمہاری دعا مردود ہے قابل قبول نہیں ہے۔وہ بے نیاز ہے جو چاہے کرے اور میں بندہ ہوں ، اس کے سوا میرے لئے کوئی پناہ نہیں ہے۔وہ اپنی بے نیازی کی وجہ سے میری دعا کو رد کرتا جائے۔میں اپنی بندگی اور عبودیت کو اس کے حضور پیش کر کے مانگتا جاؤں گا جب تک کہ دم میں دم ہے۔جب اس کا استقلال اس حد تک پہنچ گیا تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کو بذریعہ الہام بتایا گیا کہ تمہاری سب دعائیں مقبول ہیں۔1476 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ محترمہ قاضی عبد الرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک عورت ( قوم خانہ بدوش ) آلے بھولے یعنی مٹی کے کھلونے بیچنے والی آئی اس نے آواز دی۔کونی آلے بھولے۔گرمی کا موسم تھا۔حضور علیہ السلام اور اماں جان ان دنوں دن کو مکان کے نیچے کے حصہ میں رہتے تھے۔حضور“ کھانا کھا کر ٹہل رہے تھے کہ اس عورت نے آواز دی۔لونی آلے بھولے۔ابھی میں نے جواب نہیں دیا تھا کہ وہ پھر بولی کہ میں سخت بھوکی ہوں مجھے روٹی دو۔صفیہ کی اماں جو حضور کی خادمہ تھی اس وقت کھانا کھلایا کرتی تھی۔انہوں نے دوروٹیاں سلطا نو کو دیں کہ ان پر دال ڈال کر اس کو دے دو۔سلطانی مغلانی بھی حضور علیہ السلام کے گھر میں آنکھوں سے معذور اور غریب ہونے کی وجہ سے رہتی تھی۔اس نے جب دال ڈال کر اس سائلہ کو دی تو اس عورت نے جلدی سے ٹوکر از مین پر رکھ کر روٹی ہاتھ میں لی اور جلدی سے ہی ایک بڑا سا لقمہ تو ڑ کر اپنے منہ میں ڈالنے کے لئے منہ اوپر کیا اور ساتھ ہی ہاتھ بھی اونچا کیا۔مکان کی پکی عمارت اس کو نظر آئی تو لقمہ اس کے ہاتھ میں تھا اور سخت بھو کی منہ اوپر کو کئے ہوئے اس نے پوچھا کہ یہ کس کا گھر ہے کہیں عیسائیوں کا تو نہیں۔“ سلطانو نے کہا کہ ” تو کون ہے؟ اس نے کہا کہ ” میں مسلمان امت رسول دی۔“ حضور ٹہلتے ہوئے یہ بات سن کر کھڑے ہو گئے فرمایا ” اس کو کہہ دو۔یہی مسلمانوں کا گھر ہے۔پھر تین بار فرمایا کہ اس کو کہد و کہ یہ خاص مسلمانوں کا گھر ہے۔پھر ایک رو پید اپنی جیب سے نکال کر اس کو دیا اور اس کے اس فعل سے کہ باوجود سخت بھوک ہونے کے اس نے جب تک تحقیق نہیں کر لی کہ یہ خیرات مسلمانوں کی ہے اس کو نہیں کھایا۔آپ بہت خوش ہوئے۔