سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 262 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 262

سیرت المہدی 262 حصہ پنجم نیچے سے اس کے پاؤں کی زور سے چٹکی لی۔اس نے دو تین چھینیں ماریں اور زمین پر گر پڑی۔حضور علیہ السلام مسجد سے گھبرائے ہوئے تشریف لائے اور استفسار فرمایا تو حضرت اماں جان اور سب چپ ہوگئیں۔اس پر آپ نے فرمایا کہ ”میں نے کئی بار کہا ہے کہ نماز کے وقت ایسی باتیں نہ کیا کرو “ آپ علیہ السلام ہنستے بھی جاتے کیونکہ حضور کو معلوم ہو گیا تھا کہ مذاق کیا گیا ہے۔1473 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ اللہ دتہ وعلی محمد چھینسے وغیرہ سکنائے سوہل تحصیل و ضلع گورداسپور ابتدائے دعویٰ سید نا حضرت مسیح موعود کے وقت اکثر معترض رہتے تھے اور ہر حرکت و سکون پر اعتراض کرتے رہتے تھے۔مینار ( جونزول گاہ مسیح موعود ہے) پر بھی معترض تھے کہ مینار کہاں ہے؟ جس پر حضرت مسیح کا نزول احادیث میں آیا ہے ایک روز حضرت صاحب کے حضور عرض کیا گیا کہ مولوی اللہ دتہ وغیرہ سوہلوی (چھینے ) مینار کے متعلق اعتراض کرتے ہیں۔حضور علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ”جس وقت مینار بنے گا اس وقت یہ چھینے کہاں ہوں گے؟ ( یعنی ہلاک ہو چکے ہوں گے) چنانچہ ایسا ہی ہوا ایک طاعون سے ہلاک ہوا اور دوسراعلی محمد زندہ درگور کی حالت میں ہے، کبھی کلام کرتا نہیں سنا گیا۔1474 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ محترمہ قاضی عبد الرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب حضور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دائی فوت ہوئی تھیں تو حضور نے افسوس کیا تھا اور فرمایا تھا کہ آج ہماری دائی صاحبہ فوت ہوگئی ہیں۔“ 1475 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضور نے ایک بزرگ کا ذکر کیا کہ وہ دعا کرتے اور جواب جناب الہی سے آتا کہ تمہاری دعا مردود ہے ، قابل قبول نہیں۔اتفاق سے ان کا ایک مرید ملنے کے لئے آ گیا۔جب حسب دستور انہوں نے دعا شروع کی تو جناب الہی سے وہی جواب ملا جو روز ملا کرتا تھا۔آخر مرید نے بھی وہ جواب سن لیا تو اس نے اپنے پیر کی خدمت میں عرض کی کہ جبکہ یہی جواب آتا ہے کہ تمہاری دعا مردود ہے قابل قبول نہیں تو آپ دعا ترک کیوں نہیں کر دیتے ؟ تو پیر نے جواباً فرمایا کہ تم دوتین رات میں ہی سن کر