سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 264 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 264

سیرت المہدی 264 حصہ پنجم 1477 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جلسہ ( دھرم ) مہوتسو لا ہور کے موقعہ پر جب حضور علیہ السلام کا مضمون ”اسلامی اصول کی فلاسفی جو حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے بمقام لاہور پڑھ کر سنایا تھا جس کی نسبت خدا تعالیٰ نے پہلے ہی خبر دے دی تھی کہ مضمون بالا رہا اس وقت محویت سامعین کا یہ حال تھا کہ کوئی اگر کھانستا بھی تو سامعین گوارا نہ کرتے تھے۔مضمون کیا تھا اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ایک چمکتا ہوا نشان تھا۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی مکذب کا مضمون اس مضمون سے ایک روز پہلے ہو چکا تھا جو اس نے خود پڑھا تھا جس میں اس نے کہا تھا کہ لوگ ہم سے نشان مانگتے ہیں ہم کہاں سے نشان دکھلائیں؟ ہم میں کوئی اب نشان دکھلانے والا نہیں ہے۔اس کے بعد دوسرے دن حضور علیہ السلام کا مضمون پڑھا گیا جس میں بڑے زور سے کہا گیا کہ اندھا ہے وہ جو کہتا ہے کہ کہاں سے نشان لائیں؟ آؤ میں نشان دکھلاتا ہوں اور میں اندھوں کو آنکھیں بخشنے کے لئے آیا ہوں ( یہ فقرات بذات خود نشان تھے کیونکہ مولوی محمد حسین کا مضمون پہلے پڑھا گیا تھا اور حضور علیہ السلام کا بعد میں پڑھا گیا اور اگر حضور علیہ السلام کا مضمون پہلے پڑھا جاتا اور مولوی محمد حسین کا بعد میں پڑھا جاتا تو بے مزگی پیدا ہو جاتی لیکن قدرت کا منشا تھا کہ اسلام کی عظمت ظاہر ہو اس لئے مولوی محمد حسین نے جو کمزوری (اسلام کی طرف) اپنے مضمون میں دکھلائی تھی خدا کے مامور ومرسل نے اس کو رڈ کر کے اسلامی شوکت کو بلند کر دیا۔الحمد للہ علی ذالک 1478 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔برکت بی بی صاحبہ اہلیہ اللہ یا ر صاحب ٹھیکیدار نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ ہم پر بہت قرضہ ہو گیا تھا۔میں نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ لکڑی کا کاروبار کرو۔چنانچہ لکڑی کے کاروبار سے ہم کو بہت فائدہ ہوا۔66 1479 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔برکت بی بی صاحبہ اہلیہ اللہ یار صاحب ٹھیکیدار نے بواسطہ لجند اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک مرتبہ میں اور میری بہن مکیریاں سے آئے۔طاعون کے دن تھے۔حضور علیہ السلام کے دروازہ پر پہرہ تھا۔حضور نے فرمایا کہ تم کوکسی نے نہیں روکا ؟ عرض کیا کہ نہیں۔حضور