سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 240
سیرت المہدی 240 حصہ پنجم میر عباس علی بڑا ہی مؤدب تھا۔افسوس! کہ بعد میں حالت بدل گئی۔1412 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم و مغفور نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب سیدہ مبارکہ بیگم صاحبہ کا نکاح ہوا تھا اسی دن صلاح الدین کو سردی لگ جانے سے سخت بخار اورنمونیا ہوگیا تھا۔ڈاکٹر صاحب فرخ آباد ملازمت پر تھے۔حضور علیہ السلام نے حضرت مولوی نورالدین خلیفتہ اسیح اول کو علاج کے واسطے مقرر کر دیا تھا۔مولوی صاحب دونوں وقت تشریف لا کر مریض کو دیکھتے اور علاج تجویز فرماتے تھے۔جب آتے تھے تو باہر سے گول کمرہ کے دروازہ کا جو مسجد کے زینہ میں تھا کنڈا کھٹکھٹاتے۔میں کہتی ” کون ہیں“ تو فرماتے کہ ”نورالدین حضرت اقدس خود بھی آتے جاتے کمال مہربانی اور شفقت سے بیمار بچہ کا حال پوچھتے تھے اور اس کو پیار کرتے تھے۔1413 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ان دنوں میں جب کہ سیدہ مبارکہ بیگم صاحبہ کے واسطے کچھ کپڑے سیے جاتے تھے تو میں بھی روزانہ سینے کو چلی آتی تھی۔اس وقت سعیدہ رشیدہ بیگم مرحومہ میری چھوٹی لڑکی کوئی سال سوا سال کی تھی اور اس کی کھلا دی اس کو اٹھائے ہوئے میرے ساتھ ہوتی تھی۔حضرت اقدس اس کو روز بلایا کرتے تھے اور پیار سے لکڑی کے ساتھ چھیڑا بھی کرتے تھے۔چونکہ موسم تبدیل ہو گیا تھا۔ایک دن میں نے اس کو سفید کپڑے پہنا دئے۔حضور نے دریافت کیا کہ اس کا زیور کیوں اتار دیا ہے۔میں نے عرض کیا کہ زیور اس کو کبھی نہیں پہنایا گیا۔اصل بات یہ تھی کہ پہلے اس لڑکی کے عموما یشمی رنگین اور گوٹے والے کپڑے ہوتے تھے۔حضور علیہ السلام ان کو زیور خیال فرماتے رہے۔اس لئے آج سادہ لباس میں دیکھ کر تعجب فرمایا تھا۔1414 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ابتدائے دعوئی میں مولوی محمد حسین نے مخالفت دعوی کے متعلق کوئی مضمون شائع کیا اور وہ شائع شدہ مضمون حضور علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا وہ بلا جلد ہی تھا اور حضور علیہ السلام کھڑے تھے اور ہم