سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 236
سیرت المہدی 236 حصہ پنجم نے حضرت اُم المومنین سے دریافت کیا کہ ” کیا یہ ہمیشہ سفید کپڑے ہی پہنتی ہیں ؟“ اماں جان نے مجھ سے پوچھا کہ ” کی تم کو رنگین کپڑے پسند نہیں ہیں؟“ میں نے عرض کیا کہ حضور پسند تو ہیں لیکن کپڑے رنگنے سے ہاتھ خراب ہو جاتے ہیں۔حضور نے میرے ہاتھوں کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ ” مراد خاتون کیا تم مہندی نہیں لگایا کرتیں ؟“ میں نے عرض کی کہ نہیں۔حضور نے فرمایا ” کیوں؟ میں نے پھر کہا کہ حضور ! ہا تھ خراب ہو جاتے ہیں۔فرمایا کہ ” مہندی لگانا سنت ہے۔عورتوں کو ہاتھ سفید نہیں رکھنے چاہئیں۔“ اتنے میں میر ناصر نواب صاحب مرحوم جولاہور کچھ سامان لینے گئے ہوئے تھے تشریف لائے۔اس سامان میں کچھ کپڑا اور بڑا پڑا مہندی کا بھی تھا۔آپ نے حضرت اماں جان سے پوچھا کہ ” گھر میں مہندی ہے؟“ انہوں نے بتایا کہ ”مہندی گھر میں ہے آپ نے فرمایا کہ یہ مہندی اور ایک قمیض کا کپڑا مراد خاتون کو دے دو اور اس کو کہہ دو کہ مہندی لگا یا کرے۔وہ کپڑا یشمی موتیا رنگ کا تھا۔اس دن سے میں عموماً مہندی لگاتی ہوں اور رنگین کپڑا بھی پہنتی ہوں۔1403 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت ام ناصر صاحبہ حرم اول حضرت امیر المومنین خلیفہ المسح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ و بنت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ” میری شادی ہونے کے بعد جو رڑکی میں ہوئی تھی جب میں پہلی بار قادیان میں آئی تھی میری عمرا اسال کی تھی۔جب مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے حضور لایا گیا تو حضور نے کمال شفقت سے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور ایک سرخ رومال میں بندھے ہوئے کچھ پونڈ دئے تھے۔یہ یاد نہیں کہ کتنے تھے؟ میرے ساتھ میری چھوٹی والدہ اور ایک ملازمہ بھی تھی۔چند یوم کے بعد میرے والد رضی اللہ عنہ آکر مجھے لے گئے۔پھر جب ماہ اکتو بر ۱۹۰۳ء میں ڈاکٹر صاحب کی تبدیلی آگرہ ہوگئی تھی۔حضور نے حضرت نانا جان اور نانی اماں کو اور میر الحق صاحب کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ساتھ مجھے لینے کے واسطے بھیجا تھا۔1404) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ محترمہ قاضی عبد الرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اہلیہ حافظ احمد اللہ صاحب مرحوم کو فر ما یا تھا کہ یہ نظم