سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 228
سیرت المہدی 228 حصہ پنجم ( وہ نظم مذکور حسب ذیل ہے) آواز آرہی ہے یہ فونو گراف ڈھونڈو خدا کو دل سے نہ لاف و گزاف سے جب تک عمل نہیں ہے دل پاک وصاف سے کمتر نہیں یہ مشغلہ بت کے طواف سے باہر نہیں اگر دل مردہ غلاف سے حاصل ہی کیا ہے جنگ وجدال وخلاف سے وہ دیں ہی کیا ہے جس میں خدا سے نشاں نہ ہو تائید حق نہ ہو مدد آسماں نہ ہو مذہب بھی ایک کھیل ہے جب تک یقیں نہیں جو نور سے تہی ہے خدا سے وہ دیں نہیں دین خدا وہی ہے جو دریائے نور ہے جو اس سے دور ہے وہ خدا سے بھی دور ہے دین خدا وہی ہے جو ہے وہ خدا نما کس کام کا وہ دیں جو نہ ہو وے گرہ گشا جن کا یہ دیں نہیں ہے نہیں ان میں کچھ بھی دم دنیا سے آگے ایک بھی چلتا نہیں قدم وہ لوگ جو کہ معرفت حق میں خام ہیں بت ترک کر کے پھر بھی بتوں کے غلام ہیں یہ نظم لالہ شرمیت وغیرہ کی موجودگی میں سنائی گئی پھر اُسی وقت حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے سورۃ مریم کے ایک یا دور کوع فونوگراف کے سامنے پڑھے۔وہ بھی فونوگراف میں بھرے گئے۔حضور علیہ السلام نے بھی یوں فونوگراف سنا‘“۔1383 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔صفیہ بیگم صاحبہ شاہجہاں پوری اہلیہ محترمہ شیخ غلام احمد صاحب نو مسلم واعظ مجاہد نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ جب آپ دہلی تشریف لے گئے تو وہاں ایک شخص ہر روز آ کر آپ کو گالیاں دیا کرتا تھا۔حضور نے حضرت ام المومنین سے فرمایا کہ اسے ایک گلاس شربت کا بنا کر بھیج دو۔اس کا گلا گالیاں دیتے سوکھ گیا ہو گا۔“ حضرت ام المومنین نے فرمایا کہ میں بھیج تو دوں مگر وہ کہے گا کہ مجھے زہر ملا کر دیا ہے۔واپسی پر آپ نے لدھیانہ میں قیام کیا وہاں بھی کئی مخالفوں نے آ کر گالیاں دیں۔حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم نے انہیں روکا۔حضرت علیہ السلام نے فرمایا کہ میر صاحب ! مت روکو۔ان کو دل خوش کر لینے دو۔1384 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان