سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 227
سیرت المہدی 227 حصہ پنجم 1379 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فقیر محمد صاحب بڑھئی نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب سیر کو آئے تو کچھ عورتیں بھی ساتھ تھیں۔واپسی پرستانے کے لئے ہماری کچی مسجد میں بیٹھ گئے اور عورتیں بھی بیٹھ گئیں۔ہماری عورتیں بھی وہاں چلی گئیں۔سلام علیکم کہا اور پوچھا کہ حضوڑ کے واسطے کچھ پانی وغیرہ لائیں؟ آپ نے فرمایا۔”بیٹھ جاؤ بتاؤ تمہارے آدمی نمازیں پڑھتے ہیں؟ اگر نہیں پڑھتے تو ان کے نام لکھواؤ“۔1380 بسم اللہ الرحمن الرحیم فضل بیگم صاحبہ اہلیہ محترمہ مرزا محمود بیگ صاحب پٹی نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میں اکثر یہاں رہا کرتی تھی اور میرے خاوند قصور رہا کرتے تھے۔وہ قصور سے آئے تو کچھ قصور کی جوتیاں اور خربوزے لائے اور حضور کی خدمت میں پیش کئے اور ایک خط بھی بھیجا جس میں لکھا ہوا تھا کہ حضوڑ مجھے کوئی کام نہیں آتا حضور مجھے اپنے کپڑے ہی دھونے کے لئے دے دیا کریں۔میں وہاں پر ہی بیٹھی تھی۔حضور نے فرمایا۔فضل! مرزا صاحب تمہارے کپڑے دھویا کرتے ہیں؟“ میں نے کہا کہ حضور وہ تو کبھی گھڑے میں سے پانی بھی ڈال کر نہیں پیتے۔حضور علیہ السلام ہنس پڑے اور فرمایا۔کہ ہم سے تو کپڑے دھونے کا کام مانگتے ہیں“۔1381 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔والدہ محترمہ ڈاکٹر چوہدری شاہ نواز خان صاحب زوجہ چوہدری مولا بخش صاحب چونڈے والے۔سرشتہ دار نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کہ جب دوسری دفعہ میں قادیان میں آئی تو حضور کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب کی بیوی مرحومہ کرسی پر بیٹھی تھیں۔میں نے عرض کی کہ حضور علیہ السلام مجھے کچھ علم نہیں ہے میں سیدھی سادی ہوں۔حضور نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ سیدھے سادوں کو قبول کر لیتا ہے“۔1382 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جناب حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے پہلے پہل فونوگراف منگوایا تو ان دنوں بڑے شوق اور تعجب سے دیکھا جاتا اور سنا جاتا تھا۔ایک روز حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ لالہ شرمپت وغیرہ کہتے ہیں کہ ہم کو بھی سنواؤ تو ہم نے اس میں تبلیغی فائدہ کو مدنظر رکھ کر ایک نظم بھروا دی ہے۔