سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 220 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 220

سیرت المہدی 220 حصہ پنجم جو قادیان میں پڑھتے ہیں دیکھا ہے اور مجھے ہر طرح سے تشفی ہے۔اس وقت تجویز یہ ہوئی کہ غالبا کل یا پرسوں قادیان پہنچ جاویں اور نکاح ہو جاوے۔چنانچہ میں اور ڈاکٹر صاحب وقت پر قادیان میں پہنچ گئے۔جب نکاح پڑھا جارہا تھا تو یہ دریافت کرنے پر کہ مہر کیا مقرر ہوا ہے میں نے کہہ دیا۔جس نے یہ نکاح پڑھوایا ہے مہر کا بھی اس کو علم ہوگا اس پر حضرت اقدس فِدَاهُ اُمّی وَاَبِی نے مبلغ ۲۰۰ روپے حق مہر مقرر فرما دیا۔یہ نکاح بفضلہ تعالیٰ بہت مبارک ہوا۔خدا کی باتیں خدا ہی جانے۔شاید یہ میری اس نیک نیتی کا ثمر تھا کہ میں اپنی بہن کو محض نیک ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر رحمت علی صاحب رضی اللہ عنہ کے خواہ مخواہ گلے مڑھنا چاہتا تھا جس نے اس کے ایک دو سال بعد ہی لڑائی میں شہید ہو جانا تھا۔اللہ کریم نے مجھے ایک اور نیک نفس اور ایسا تقی انسان دے دیا جو بہر صورت نعم البدل تھا۔" معلوم ہوتا ہے کہ پہلی مرتبہ حضرت صاحب نے اس وقت مجھے کہا تھا جبکہ حضور کو مولوی محمد علی صاحب اور ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب کے لئے رشتوں کی ضرورت تھی۔اس وقت فرمایا تھا کہ ” تم اپنے بھائیوں سے بھی مشورہ کر لو۔“ بھائی میرے افریقہ میں تھے۔ان سے مشورہ کرتے ہوئے ایک دو مہینے ڈاک کے لگ جاتے مگر اس مرتبہ ویسا نہیں فرمایا۔گویا یہ ایک تقدیر مبرم تھی۔الْحَمْدُ للهِ عَلَى ذَلِک 1361 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ بلجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ صاحبزادہ مبارک احمد مرحوم کی وفات کے بعد ) حضور مسیح موعود علیہ السلام فِدَاهُ اُمّى وَابِی اس جگہ جہاں ام ناصر احمد سلمہا کا آنگن ہے چار پائی پر بیٹھے یا لیٹے ہوئے تھے۔حضرت ام المومنین پاس ہوتی تھیں۔حضرت اس طرح خوشی ہنسی باتیں کرتے تھے گویا کوئی واقعہ رنج اور افسوس کا ہوا ہی نہیں۔عورتیں تعزیت کے واسطے آتیں تو حضور علیہ السلام کو اس حال میں راضی دیکھ کر کسی کو رونے کی جرات نہ ہوتی اور حیران رہ جاتیں۔1362 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔برکت بی بی صاحبہ اہلیہ حکیم مولوی رحیم بخش صاحب مرحوم ساکنہ تلونڈی نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ میں حضور علیہ السلام کو وضو کرانے لگی۔عصر یا ظہر کا وقت تھا۔میری لڑکی نے مجھے کہا کہ اماں ! یہ امام مہدی ہیں؟ میں نے کہا ہاں اس پر