سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 206 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 206

سیرت المہدی 206 حصہ پنجم میری ماں نے اپنے بھائی کے گھر کر دی تھی۔جب وہ جوان ہوئیں تو میرے چچانے نالش کر دی کہ لڑکیوں کا نکاح تو میرے لڑکوں سے ہو چکا ہے۔میرے باپ نے خط میں تمام حال لکھا تھا اور دعا کے لئے عرض کی تھی۔میں خط لے کر حضوڑ کے پاس آئی۔حضور سب بال بچوں کو لے کر باغ میں سیر کو گئے ہوئے تھے۔میں بیٹھی رہی۔جب حضور تشریف لائے تو جس حجرے میں حضوڑ بیٹھا کرتے تھے چلے گئے۔میں نے دروازہ میں سے عرض کیا کہ حضور ! یہ خط میرے باواجی کا آیا ہے اور سب معاملہ عرض کیا۔حضور نے خط لے کر پڑھا اور سب حال بھی سنا کہ چوں نے جھوٹا مقدمہ کر دیا ہے۔فرمایا ” اچھا ہم دعا کریں گے۔‘‘دس بارہ دن کے بعد پھر خط آیا کہ چوں نے مقدمہ کیا تھا واپس لے لیا ہے اور معافی بھی مانگی ہے کہ ہماری غلطی تھی۔حضور سن کر بہت خوش ہوئے اور کئی بار زبان مبارک سے الحمد للہ فرمایا۔اس کے بعد ہم رخصت لے کر چلے گئے۔1329 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔صفیہ بیگم صاحبہ شاہجہانپوری اہلیہ شیخ غلام احمد صاحب نومسلم واعظ مجاہد نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضورڑ نے کچھ دوائیاں ایک لڑکی کے سپرد کی ہوئی تھیں کہ مجھے کھانے کے بعد دے دیا کرو۔چونکہ آپ مہندی بھی لگاتے تھے اس لئے گرم پانی کی بھی ضرورت ہوتی تھی۔یہ دونوں کام اس لڑکی کے سپر د تھے۔وہ اکثر بھول جاتی تھی اس لئے یہ کام آپ نے میرے سپر د کر دئے تھے۔میں نے اچھی طرح سرانجام دیا۔ایک دفعہ جب میں بیمار ہوئی تو حضوڑ نے آکر فرمایا۔صفیہ! کیا حال ہے؟ چونکہ حضور علیہ السلام کھانا کھا چکے تھے اس لئے میں نے عرض کی حضور ! اب تو بہت اچھا ہے مگر حضور دوائی کھا لیویں۔حضور نے فرمایا کہ صفیہ کو بات خوب یاد رہتی ہے۔66 1330 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مائی بھاگو و مائی بھانو صاحبہ قادرآباد نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک میر اسی کہا کرتا تھا کہ حضرت صاحب بچپن میں پڑھنے کی طرف بہت متوجہ رہتے تھے اور گھر سے جو کھانا آتا وہ غرباء میں تقسیم کر دیا کرتے کبھی گھر سے جا کر کھانا اٹھا لاتے۔گھر والوں کو معلوم ہوتا کہ آپ تمام کھانا لے گئے ہیں۔اس پر آپ کے والد صاحب فرماتے کہ ان کو کچھ نہ کہا کرو۔1331 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان میں بواسطہ اماء