سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 205 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 205

سیرت المہدی 205 حصہ پنجم 1325 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ صاحبہ عبد العزیز صاحب سابق پٹواری سیکھواں نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت ام المومنین مجھ سے دریافت کرتی تھیں کہ تمہارا گاؤں تو اوجلہ ہے تم سیکھواں کیوں رہتے ہو؟ حضور نے فرمایا۔میں آپ کو بتلاتا ہوں کہ چونکہ میاں عبدالعزیز کی ملازمت پٹوار سیکھواں میں ہے اور پٹواری کو مع عیال حلقہ میں رہنے کا حکم ہے اس واسطے ان کو سیکھواں میں رہنا پڑتا ہے۔“ 1326 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ صاحبہ ماسٹر عبد الرحمن صاحب (مہر سنگھ ) بی اے نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے لڑکا پیدا ہوا اور فاطمہ اہلیہ مولوی محمد علی صاحب پوچھتی ہیں ”بشریٰ کی اماں ! لڑکے کا نام کیا رکھا ہے! اتنے میں دائیں طرف سے آواز آتی ہے کہ نذیر احمد۔میرے خاوند نے یہ خواب حضرت اقدس کو سنا دیا۔جب میرے 66 66 ہاں لڑکا پیدا ہوا تو ماسٹر صاحب نام پوچھنے گئے تو حضور نے فرمایا کہ ”وہی نام رکھو جو خدا نے دکھایا ہے۔“ جب میں چلہ نہا کر گئی تو حضور کو سلام کیا اور دعا کے لئے عرض کی۔آپ نے فرمایا۔انشاء اللہ پھر حضور علیہ السلام ہنس پڑے اور فرمایا۔’ ایک نذیر دنیا میں آنے سے تو دنیا میں آگ برس رہی ہے اور اب ایک اور آ گیا ہے۔1327 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ صاحبہ ماسٹر عبد الرحمن صاحب ( مہر سنگھ ) بی اے نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت صاحب اکثر گھر میں شہلا کرتے تھے۔جب تھک کر لیٹ جاتے تو ہم لوگ حضور کو دبانے لگ جاتے۔آپ کو اکثر ضعف ہو جاتا تھا۔اس وقت حضور دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے اور جس قدر عورتیں وہاں ہوتیں ان سب کو بھی دعا کے لئے فرماتے تو ہم سب دعا کرتے۔حضوڑ بہت ہی خوش اخلاق تھے اور بڑی محبت سے بات کیا کرتے تھے۔جو کوئی حضور سے اپنی تکلیف بیان کرتی حضور بڑی ہمدردی کا اظہار کرتے اور دعا فرماتے۔1328 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ صاحبہ بابو فخر الدین صاحب نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک روز میرے باپ کا خط آیا میری دو چھوٹی بہنیں تھیں جن کی منگنی پیدا ہوتے ہی