سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 197 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 197

سیرت المہدی 197 حصہ پنجم فرماتے ” نہیں ڈاکٹر صاحب ہمارے مہمان ہیں ان کو بھی کہو کہ یہاں پر آجائیں۔کھانا لنگر خانہ سے آتا۔حضور کی سخت تاکید ہوتی تھی کہ ڈاکٹر صاحب کے لئے کھانا عمدہ ہو۔کریم بخش باور چی کھانا پکا یا کرتا تھا جو کہ روز آکر پوچھا کرتا لنگر والے روزانہ آکر پوچھتے آپ کے لئے کیا پکایا جائے؟ پھر آپ علیہ السلام خود پوچھتے ” کھانا خراب تو نہیں تھا۔کوئی تکلیف تو نہیں ہے؟ کہنا نہیں حضور کوئی تکلیف نہیں۔پھر بھی حضور کی تسلی نہ ہوتی۔گھر سے کبھی کبھی کوئی چیز ضرور بھیج دیتے۔تین ماہ کی رخصت لے کر ڈاکٹر صاحب آئے حضور کبھی بھی مہمان نوازی سے نہ گھبراتے تھے اور اپنی ملازمہ سے کہتے تھے۔”دیکھوڈاکٹر صاحب تنور کی روٹی کھانے کے عادی نہیں ان کو پھلکے پکا کر بھیجا کرو“۔روز کھانے کے وقت حضور آواز دے کر پوچھتے۔" صفیہ کی اماں ! ڈاکٹر صاحب کے لئے پھلکے بھیج دیے؟ تو وہ کہتی بھیجتی ہوں۔تو فرماتے ”جلدی کرو، وہ کھانا کھا چکے ہونگے حضور علیہ السلام مہمانوں کا یوں خیال رکھتے جیسے ماں بچے کا خیال رکھتی ہے۔1305 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔رحیمن اہلیہ قدرت اللہ صاحب ریاست پٹیالہ نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میری والدہ کے ہاں چارلڑ کے اور پانچ لڑکیاں پیدا ہوئی تھیں۔جن میں سے صرف میں زندہ رہی اور باقی تمام فوت ہو گئے۔لیکن ۱۵ سال کی عمر میں مجھے دق کا مرض شروع ہو گیا۔حتی کہ ڈاکٹروں اور حکیموں نے جواب دے دیا۔اس مایوسی کی حالت میں میرے والد مجھے قادیان شریف لائے اور مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا اور دعا کے لئے عرض کی۔حضور نے ایک خط لکھ کر میرے والد کو دیا اور فرمایا کہ ” میں دعا کرتا ہوں اور تم یہ خط مولوی صاحب حضرت خلیفہ اسیح اول) کو دو۔وہ اس لڑکی کا علاج کرینگے۔چنانچہ اس کے بعد مجھے صحت ہوگئی۔میری شادی ہوئی اور حضور کے فرمانے کے بموجب بچے پیدا ہوئے۔1306 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ صاحبہ مولوی فضل الدین صاحب کھاریاں نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں اس زمانہ میں قادیان آئی جب حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی آمین ہوئی تھی۔میں حضرت کے مکان کے نچلے حصہ میں رہتی تھی۔آپ کے کمرے کے درمیان میز رکھی ہوئی تھی۔آپ ٹہلتے جاتے اور لکھتے جاتے۔دوات میز پر رکھی ہوتی۔جب میز کے پاس سے گزرتے تو