سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 196 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 196

سیرت المہدی 196 حصہ پنجم 6 تھیں کہ مائی بھانو نے دریافت کیا کہ حضور نماز پڑھنے کا ثواب ہوگا؟ تو حضور نے فرمایا کہ نہ ثواب ہوگا نہ عذاب ہوگا۔پانچ وقت کی نماز نہیں چھوڑنی چاہئے۔میں نے کبھی نماز قضا نہیں کی۔ایک دفعہ ایک مباحثہ میں جمع کی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا تھا کہ مکان تیار کرو۔آپ کی سیدوں میں شادی ہوگی۔اس پر لوگوں نے بہت ٹھٹھا اڑایا مگر ہمارے سامنے ایسا ہی واقعہ ہوا۔پھر حضرت کو الہام ہوا کہ آپ کے گھر ایک لڑکا ہوگا جو اسلام میں بہت ہوشیار ہوگا پھر ہمارے گاؤں کی مسجد میں گئے اور دریافت فرمایا کہ کون کون نماز پڑھتا ہے؟ اور کون کون نہیں پڑھتا ؟ لوگوں نے کہا کہ بہت کم لوگ پڑھتے ہیں۔اس پر حضور علیہ السلام نے جیب سے ایک کاپی نکالی اور فرمایا کہ ان کے نام لکھاؤ۔اس پر حضرت ام المومنین سلمها الله نے فرمایا کہ ” آپ نام کیوں لکھتے ہیں؟ تو حضور علیہ السلام نے کاپی جیب میں ڈال لی اور نام نہ لکھے۔اب خدا کے فضل سے سب ( نماز ) پڑھتے ہیں۔1303 بسم اللہ الرحمن الرحیم اہلیہ صاحبہ نشی نبی بخش صاحب نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب ہمیشہ جماعت کے ساتھ باہر کھانا کھایا کرتے تھے اور آپ وہی کھانا کھایا کرتے تھے جو سب کے لئے پکتا تھا۔بچوں سے بہت محبت و اخلاق سے پیش آیا کرتے تھے۔عورتوں کو ہمیشہ نماز کی ادائیگی کے متعلق تاکید بہت کرتے تھے۔1304 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ صاحبہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میری والدہ صاحبہ بھی قادیان میں ہی رہا کرتی تھیں۔جب میں قادیان آتی تو حضور مجھ کو کہتے تھے کہ تم ہمارے مہمان ہو۔ہمارے مکان پر رہو۔میں تو شرم کے مارے چپ رہتی اور ڈاکٹر صاحب سے کہلاتی۔حضور دس روز کی رخصت ہے ، یہ اپنی ماں کے پاس رہنا چاہتی ہیں۔حضور فرماتے۔” کوئی حرج نہیں ان کی والدہ بھی یہیں رہیں گی۔فوراً آدمی میری اماں کی طرف بھیج دیتے۔کہ جب تک ڈاکٹر صاحب یہاں رہیں آپ بھی یہاں رہیں۔چنانچہ کئی بار ایسا ہوا کہ میری والدہ صاحبہ اور میری بھا وجہ فاطمہ جو ڈاکٹر فیض علی صاحب کی بیوی ہیں یہاں رہتیں۔میرے بھائی باہر نوکری پر ہوتے تو میری والدہ کہتیں۔بہو گھر میں اکیلی ہے میں نہیں آسکتی۔لیکن حضرت صاحب