سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 153 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 153

سیرت المہدی 153 حصہ چہارم قبضہ چلتا ہے اور ہمیں ان کی آمد میں سے ایک معین حصہ ملتا ہے۔یہ لوگ موروثی یا حیل کا ر کہلاتے اور وہ مالکان کی مرضی کے بغیر اپنے قبضہ کی زمین فروخت نہیں کر سکتے۔مولوی قطب الدین صاحب نے انہی میں سے کسی کی زمین خریدنی چاہی تھی مگر حضرت صاحب نے اجازت نہیں دی اور واقعی عام حالات میں ایسی اجازت دینا فتنہ کا موجب ہے۔کیونکہ اول تو اگر ایک احمدی کو اجازت دی جائے تو دوسروں کو کیوں نہ دی جائے۔دوسرے: زمینوں کے معاملات میں بالعموم تنازعات پیش آتے رہتے ہیں اور مالکان اور مزارعان موروثی کے درمیان کئی باتوں میں اختلاف کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ان حالات میں اگر ہمارے ذخیلکاروں سے جو بالعموم غیر مسلم اور غیر احمدی ہیں، احمدی دوست زمینیں خرید لیں تو پھر ہمارے احمدی احباب کے درمیان تنازعات اور مقدمات کا سلسلہ شروع ہو جانے کا اندیشہ ہے اور اگر ایسا نہ بھی ہو تو کم از کم دلوں میں میل آنے کا احتمال ہے۔ان حالات میں حضرت صاحب نے اس کی اجازت نہیں دی اور اسی کی اتباع میں آپ کے بعد ہم بھی اجازت نہیں دیتے بلکہ اس قسم کے وجوہات کی بناء پر ہم عموماً ان دیہات میں بھی اجازت نہیں دیتے جن میں ہم مالکان اعلیٰ ہیں اور دوسرے لوگ مالکان ادنی ہیں اور ایسے دیہات تین ہیں یعنی منگل اور بھینی اور کھارا۔گویا قادیان میں تو ہمارا خاندان مالک ہے اور دوسرے لوگ موروثی یا ذخیل کار ہیں اور منگل ، بھینی اور کھارا میں ہم مالکان اعلیٰ ہیں اور دوسرے لوگ مالکان ادنی ہیں۔1210 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں نے حضور کی خدمت میں سورۃ الحمد خلف امام پڑھنے کے متعلق سوال کیا۔فرمایا کہ قرآت سورة الحمد خلف امام بہتر ہے۔میں نے عرض کی کہ اگر نہ پڑھا جائے تو نماز ہو جاتی ہے یا نہیں ؟ فرمایا کہ نماز تو ہو جاتی ہے مگر افضل تو یہی ہے کہ الحمد خلف امام پڑھا جاوے۔یہ بھی فرمایا کہ اگر بد وں سورۃ الحمد خلف امام نماز نہ ہوتی ہو تو حنفی مذہب میں بڑے بڑے صالح لوگ گزرے ہیں وہ کس طرح صالح ہو جاتے۔نماز دونوں طرح سے ہو جاتی ہے۔فرق صرف افضلیت کا ہے۔“ ایسا ہی آمین بالستر پر آمین بالجبر کو ترجیح دی جاتی تھی۔(1211 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر عبدالرحمن صاحب رینج افسر بارہ مولا کشمیر نے بذریعہ تحریر مجھ سے