سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 152 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 152

سیرت المہدی 152 حصہ چہارم 1208 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام آخری دفعہ لاہور تشریف لے گئے تو آپ نے اسی دوران میں لاہور سے خط لکھ کر مولوی محمد علی صاحب کو ایک دن کے لئے لاہور بلایا اور ان کے ساتھ میں بھی لاہور چلا گیا۔جب مولوی صاحب حضرت صاحب کو ملنے گئے تو حضور انہیں اس برآمدہ میں ملے جو ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان کا برآمدہ جانب سڑک تھا۔میں یہ خیال کر کے کہ شاید حضرت صاحب نے کوئی بات علیحدگی میں کرنی ہو، ایک طرف کو ہٹنے لگا جس پر حضور نے مجھے فرمایا۔آپ بھی آجائیں۔چنانچہ میں بھی حضور کے پاس بیٹھ گیا۔اس وقت حضور نے مولوی صاحب سے لنگر کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا ذکر کیا اور فرمایا کہ میں اس کی وجہ سے بہت فکر مند ہوں کہ لنگر کی آمد کم ہے اور خرچ زیادہ اور مہمانوں کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہے اور ان حالات کو دیکھ کر میری روح کو صدمہ پہنچتا ہے۔اسی ملاقات میں حضور نے مولوی صاحب سے یہ بھی فرمایا کہ میں لاہور میں یہ مہینہ ٹھہروں گا یہاں ان دوستوں نے خرچ اٹھایا ہوا ہے اس کے بعد میں کہیں اور چلا جاؤں گا اور قادیان نہیں جاؤں گا۔حضرت مولوی شیر علی صاحب فرماتے ہیں کہ اس وقت میں یہ سمجھا کہ یہ جو حضور نے قادیان واپس نہ جانے کا ذکر کیا ہے غالباً موجودہ پریشانی کی وجہ سے ہے اور مطلب یہ ہے کہ کچھ عرصہ کہیں اور گذار کر پھر قادیان جاؤں گا مگر اب میں سمجھتا ہوں کہ اس سے غالبا حضور کی مراد یہ تھی کہ میری وفات کا وقت آ گیا ہے اور اب میرا قادیان جانا نہیں ہوگا۔واللہ اعلم 1209 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مکرم شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میرے سامنے مولوی قطب الدین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اجازت مانگی کہ وہ حضور کے کسی مزارعہ ذخیل کا ر سے کچھ زمین خرید لیں۔حضرت صاحب نے فرمایا یہ حقوق کا معاملہ ہے اور میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔اگر آپ کو اجازت دوں تو پھر دوسروں کو بھی اجازت دینی ہوگی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ قادیان میں کچھ رقبہ تو ہمارا مقبوضہ مملوکہ ہے یعنی اس کی ملکیت بھی ہماری ہے اور قبضہ بھی ہمارا ہے مگر پیشتر رقبہ ایسا ہے کہ وہ ملکیت ہماری ہے لیکن وہ ہمارے قبضہ میں نہیں ہے بلکہ ایسے مزارعین کے قبضہ میں ہے جنہیں ہم بلا کسی خاص قانونی وجہ کے بے دخل نہیں کر سکتے اور نسل بعد نسل انہی کا