سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 154
سیرت المہدی 154 حصہ چهارم بیان کیا کہ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ خان صاحب، ساکن چک ایمر چھ کشمیر نے کہ ”میں نے حضور علیہ السلام کے پاس اپنا یہ رویاء بیان کیا: کئی درختوں کی قطار ہے جن پر گھونسلے ہیں اور ان میں خوبصورت پرندے ہیں۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ مسیح موعود کی جماعت ہے“ 1212 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضور علیہ السلام نے رسالہ فتح اسلام اور توضیح المرام شائع فرمائے تو ان کے سرورق پر مرسل یزدانی کا فقرہ حضور کی طرف منسوب کر کے لکھا ہوا تھا۔ایک شخص نے اعتراض کیا کہ مرزا صاحب خود کو مرسل یزدانی تحریر کرتے ہیں۔میں نے معترض کو کہا کہ ممکن ہے کہ مطبع والوں نے لکھ دیا ہو کیونکہ شیخ نور احمد صاحب کے مطبع ریاض ہندا مرتسر میں رسائل موصوفہ طبع ہوئے تھے ) جب میں قادیان آیا تو یہ ذکر میں نے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں کیا۔حضور نے بلا تامل جواباً فرمایا: ”میری اجازت کے بغیر مطبع والے کس طرح لکھ سکتے تھے۔“ 1213 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر عبدالرحمن صاحب رینج افسر بارہ مولا کشمیر نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ بیان کیا مجھ سے میاں عبد اللہ خان صاحب مرحوم ساکن ایمر چھ نے کہ ایک دن سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام جو صبح کے وقت سیر کو نکلے تو مولوی عبد اللہ صاحب حال وکیل کشمیر نے حضور علیہ السلام کے پاس اپنی رویاء بیان کی کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک دریا ہے اور میں اس کے کنارے کھڑا ہوں۔اس پر حضور علیہ السلام نے مولوی صاحب سے دریافت کیا کہ اس کا پانی کیسا تھا؟“ پرھ مولوی صاحب نے جواب دیا ” میلا پانی تھا حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ دریا سے مراد دل ہے۔راقم لھذا کو یہ یاد نہیں رہا کہ میاں عبد اللہ خان صاحب مرحوم نے یہ کہا تھا یا نہیں ؟ کہ حضور علیہ السلام نے مولوی صاحب کو اصلاح نفس کی تلقین فرمائی تھی یا نہ؟ لے لے مولوی عبداللہ صاحب وکیل آخر عمر میں بہائی ہو گئے تھے۔(ناشر)