سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 148
سیرت المہدی 148 حصہ چہارم مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں دیکھا۔کہ حضور بمثل دیگر اصحاب کے بے تکلف بیٹھے ہوئے ہوتے تھے اور اس میں ایک اجنبی کے واسطے کوئی امتیازی رنگ نہ ہوتا تھا۔ایک دن بعد فراغت نماز ظہر یا عصر حضور مسجد سے نکل کر گھر کے متصلہ کمرہ میں داخل ہوئے جہاں حضور نے جوتا اتارا ہوا تھا۔میں نے دیکھا کہ حضور کا دھیان جوتا پہنتے ہوئے جوتے کی طرف نہ تھا بلکہ پاؤں سے ٹٹول کر ہی اپنا جوتا پہن رہے تھے۔اور اس وقت حضرت مولوی نورالدین صاحب سے مخاطب تھے۔مولوی صاحب حضور کے سامنے قدرے خمیدہ ہو کر نہایت موڈب کھڑے تھے۔اور کوئی اپنا خواب حضور کو سنا رہے تھے۔وہ خواب نہایت اطمینان سے سن کر حضور نے فرمایا کوئی فکر نہیں۔مبشر ہے۔اس کے بعد حضور اندر تشریف لے گئے۔میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے حضرت مولوی صاحب نہایت ادب و نیاز سے کھڑے ہوئے تھے اور نگاہیں ان کی زمین کی طرف تھیں۔بات کرتے ہوئے کسی کسی وقت نظر سامنے اٹھا کر حضور کو دیکھ لیتے اور پھر آنکھیں نیچی کر کے سلسلہ کلام چلاتے جاتے تھے۔1204 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد عبد اللہ صاحب بوتالوی نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مجھے ایک دفعہ غالبا ۱۹۰۷ء میں امتہ الرحمن صاحبہ بنت قاضی ضیاءالدین صاحب مرحوم ہمشیرہ قاضی محمد عبد اللہ صاحب بی اے بی ٹی سیکنڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان نے جو میری ننھیال کی طرف سے رشتہ دار بھی ہے۔ایک کا غذ کا پرزہ دیا تھا جوردی کے طور پر تھا۔لیکن چونکہ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اُم المومنین ایدھا اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کی لکھی ہوئی عبارتیں تھیں۔اس لئے میں نے اس کو تبر کا نہایت شوق سے حاصل کیا اور محفوظ رکھا۔پھر کسی وقت وہ کاغذ مجھ سے پس و پیش ہو گیا ہے۔معلوم نہیں کہ کسی کتاب میں پڑا ہوا ہے یا گم ہو گیا ہے۔جس کا مجھے بہت افسوس ہے۔لیکن چونکہ اس کے ساتھ ایک واقعہ کا تعلق ہے۔جو مجھے امتہ الرحمن صاحبہ مرحومہ نے خود سنایا تھا اس بے تکلفانہ لکھی ہوئی عبارت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تعلق باللہ اور تقوی وطہارت و عبادات میں شغف پر روشنی پڑتی ہے۔اس لئے میں اس کا ذکر کرنا اور تحریر میں لانا ضروری سمجھتا ہوں۔امتہ الرحمن صاحبہ جن دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں رہا کرتی تھیں۔انہوں نے دیکھا اور خاکسار سے بیان کیا کہ ایک