سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 147 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 147

سیرت المہدی 147 حصہ چہارم کو نا پسند فرمایا اور بڑے حصے کو زنانہ کے لئے مخصوص فرما لیا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حضور کو صنف نازک کے آرام کا بہت خیال رہتا تھا۔1202 ﴾ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ملک مولا بخش صاحب پنشنر نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام رمضان شریف میں امرتسر تشریف لائے۔اور آپ کا لیکچر منڈ وہ با بوگھنی لعل ( جس کا نام اب بندے ماترم ہال ہے ) میں ہوا۔بوجہ سفر کے حضور کو روزہ نہ تھا۔لیکچر کے دوران مفتی فضل الرحمن صاحب نے چائے کی پیالی پیش کی۔حضور نے توجہ نہ فرمائی۔پھر وہ اور آگے ہوئے۔پھر بھی حضور مصروف لیکچر رہے۔پھر مفتی صاحب نے پیالی بالکل قریب کر دی تو حضور نے لے کر چائے پی لی۔اس پر لوگوں نے شور مچا دیا۔یہ ہے رمضان شریف کا احترام۔روزے نہیں رکھتے۔اور بہت بکواس کرنا شروع کر دیا۔لیکچر بند ہوگیا اور حضور پس پردہ ہو گئے۔گاڑی دوسرے دروازے کے سامنے لائی گئی۔اور حضور اس میں داخل ہو گئے۔لوگوں نے اینٹ پتھر وغیرہ مارنے شروع کئے اور بہت ہلر مچایا۔گاڑی کا شیشہ ٹوٹ گیا۔مگر حضور بخیر و عافیت قیام گاہ پر پہنچ گئے اور بعد میں سنا گیا کہ ایک غیر احمدی مولوی یہ کہتا تھا۔کہ آج لوکاں نے مرزے نوں نبی بناد تا یہ میں نے خود اس کے منہ سے نہیں سنا۔حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحب کے ساتھ ہم باہر نکلے اور ان کی خدمت میں عرض کی کہ لوگ اینٹ پتھر مارتے ہیں۔ذرا ٹھہر جائیں۔تو آپ نے فرمایا وہ گیا جس کو مارتے تھے۔مجھے کون مارتا ہے۔چونکہ مفتی فضل الرحمن صاحب کے چائے پیش کرنے پر یہ سب گڑ بڑ ہوئی تھی۔اس لئے سب آدمی ان کو کہتے تھے کہ تم نے ایسا کیوں کیا۔میں نے بھی ان کو ایسا کہا۔وہ بیچارے تنگ آگئے اور بعد میں میاں عبدالخالق صاحب مرحوم احمدی نے مجھے بتلایا کہ جب یہ معاملہ حضور کے سامنے پیش ہوا کہ مفتی صاحب نے خواہ مخواہ لیکچر خراب کر دیا۔تو حضور نے فرمایا! کہ مفتی صاحب نے کوئی برا کام نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ کا ایک حکم ہے کہ سفر میں روزہ نہ رکھا جائے۔اللہ تعالیٰ نے ہمارے فعل سے اس حکم کی اشاعت کا موقعہ پیدا کر دیا۔پھر تو مفتی صاحب شیر ہو گئے۔1203 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی عبد اللہ صاحب بوتالوی نے بواسطہ مولوی عبد الرحمن صاحب