سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 149
سیرت المہدی 149 حصہ چہارم دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اُم المومنین صاحبہ نے یہ تجربہ کرنا چاہا کہ دیکھیں آنکھیں بند کر کے کاغذ پر لکھا جاسکتا ہے یا نہیں۔چنانچہ وہ پرزہ کاغذ پکڑ کر اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حسب ذیل عبارت لکھی ہوئی تھی اور جو مجھے حرف بحرف بخوبی یاد ہے۔اور مجھے اس کے متعلق ایسا وثوق ہے کہ اگر وہ پرزہ کاغذ کبھی دستیاب ہو جاوے تو یقینا یہی الفاظ اس پر لکھے ہوئے ہوں گے۔حضور نے آنکھیں بند کرنے کی حالت میں لکھا تو یہ لکھا کہ ”انسان کو چاہئے کہ ہر وقت خدا تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور پنج وقت اس کے حضور دعا کرتا رہے۔“ دوسری جگہ اسی حالت میں حضرت اماں جان کی تحریر کردہ عبارت حسب ذیل تھی۔9966 محمود میرا پیارا بیٹا ہے کوئی اس کو کچھ نہ کہے۔مبارک احمد بسکٹ مانگتا ہے۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارت ان سے شکستہ اور پختہ خط میں صاف طور پر پڑھی جاتی تھی اور باوجود آنکھیں بند کر کے لکھنے کے اس میں سطر بندی مثل دوسری تحریرات کے قائم تھی۔لیکن حضرت اُم المومنین کے حروف اپنی جگہ سے کچھ اوپر نیچے بھی تھے اور سطر بندی ان کی قائم نہ رہی تھی۔لیکن خاص بات جس کا مجھے ہمیشہ لطف آتا ہے وہ یہ تھی کہ اپنے گھر میں بے تکلفانہ بیٹھے ہوئے بھی اگر اچانک بے سوچے کوئی بات حضور کو کھنی پڑتی ہے تو وہ نصیحتا نہ پاک کلمات کے سوا اور کوئی نہیں سوجھی۔اور ادھر حضرت اُم المومنین کی عبارت ایسی ہے جو کہ ماحول کے حالات کے مطابق ان کے ذہن میں موجود ہوسکتی ہے۔یہ وہ فرق ہے جو ماموروں اور دوسروں میں ہوا کرتا ہے۔1205 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد عبد اللہ صاحب بو تالوی نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں تشریف فرما تھے۔مجلس میں مولوی محمد علی صاحب بھی موجود تھے۔اس وقت مولوی صاحب مقدمہ کرم دین کے سلسلہ میں زر جرمانہ وصول کر کے آرہے تھے۔اور مہتم خزانہ کے ساتھ ان کی جو گفتگو مقدمہ اور واپسی جرمانہ کے متعلق ہوئی تھی۔وہ حضور کو سنارہے تھے۔مولوی صاحب نے کہا کہ جس مجسٹریٹ نے اس مقدمہ میں جرمانہ کیا تھا۔